سورج میں سوراخ

سورج میں 75,000 میل چوڑا بہت بڑا سوراخ پیدا ہوگیا


ہمارے زمین کے محسن سورج میں 75,000 میل چوڑا ایک ایسا بہت بڑا سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ہماری زمین پر بھی کافی اہم تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ 
ہمارے اس پورے کرۂ ارض پر سورج نہ صرف زندگی برقرار رکھنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے، بلکہ ہماری زمین پر اسی کی وجہ سے ہر طرح کی توانائی پیدا ہوتی ہے تو یہ جھوٹ نہیں ہوگا۔ سورج اس کرۂ ارض پر ہر طرح کی حرکت پذیری، نقل و حرکت اور چہل پہل کا سبب ہے۔ اسی کی وجہ سے ہماری زمین پر ہریالی بھی ہے اور پیڑ پودے بھی۔ اگر سورج نہ ہوتا تو نہ ہمیں پانی ملتا اور نہ توانائی کے دوسرے ذرائع حاصل ہوپاتے۔ ہماری زندگیوں میں ساری بہار اسی سورج کے دم سے ہے۔ یہی سورج ہماری فصلیں پکاتا ہے اور ہمارے لیے ہر طرح کے پھل تیار کرتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بڑی تعداد میں اناج بھی تیار کرتا ہے۔ گویا اہل زمین کی خوراک کا بندوبست اسی سورج کے ذمے ہے۔ یہ ہماری زمین پر بارشیں بھی برساتا ہے اور ہر طرح کے موسم بھی ہمیں دیتا ہے۔
سورج کی کمیت کا لگ بھگ تین چوتھائی ہائیڈروجن (73 فیصد) پر مشتمل ہوتا ہے اور باقی زیادہ تر ہیلیم (25فی صد) اس میں زیادہ بھاری عناصر مثلاً آکسیجن، کاربن، نیون گیس اور فولاد بہت چھوٹی مقدار میں ہیں۔ سورج کا قطر ہماری زمین کے مقابلے میں 109گنا بڑا ہے اور اس کی کمیت زمین کے مقابلے میں لگ بھگ330,000 گنا زیادہ ہے، گویا یہ ہمارے پورے نظام شمسی کی مجموعی کمیت کا لگ بھگ 99.86 فی صد ہے۔ 
ہمارا سورج کوئی نوجوان ستارہ نہیں ہے، بل کہ اسے تو اصل میں ادھیڑ عمر ستارہ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ چار ارب برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے آج تک ڈرامائی طور پر اپنی جگہ موجود ہے اور ذرہ برابر بھی نہیں بدلا ہے اور خیال ہے کہ آئندہ مزید پانچ ارب سال تک بھی نہیں بدلے گا اور اپنی اس حالت پر مستحکم رہے گا۔
گذشتہ ہفتے یہ خبر ناسا نے بہت نمایاں طور پر ساری دنیا میں جاری کی کہ ہمارے زمین کے محسن سورج میں 75,000 میل چوڑا ایک ایسا بہت بڑا سوراخ پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ہماری زمین پر بھی کافی اہم تبدیلیاں آسکتی ہیں اور اس کرۂ ارض کا اور اس پر بسنے والوں کا بہت بڑا اور ناقابل بیان نقصان ہوسکتا ہے جس کی شاید برسوں اور صدیوں بھی تلافی نہ ہوسکے۔
ہمارے ارضی ماہرین اس لیے بھی پریشان ہیں کہ اس کی وجہ سے ہمارے مواصلاتی سیارے تباہ ہوسکتے ہیں اور ہماری زمین تاریکی میں ڈوب سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اہل زمین کا بہت زیادہ نقصان ہوگا جس کے بارے میں فی الحال تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کے بارے میں ماہرین بہت زیادہ فکر مند ہیں اور زمین کے مستقبل کے حوالے سے انہیں لاتعداد پریشانیاں لاحق ہیں۔ ان سائنس دانوں اور ماہرین نے زمین پر رہنے بسنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ سورج پر نمودار ہونے والے 75,000 میل چوڑے سوراخ کی وجہ سے ہمارے کرۂ ارض پر بڑی تباہی آسکتی ہے، اس کا فوری طور پر کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ 
شمسی شعلے ہماری زمین کے تمام مواصلاتی سیاروں کو تباہ و برباد کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے کرۂ ارض کو بہت بڑا اور بھاری نقصان ہوگا جو بعد میں جانی نقصان میں بھی بدل سکتا ہے اور اس کی وجہ سے مالی نقصان تو اتنا زیادہ ہوگا کہ ہم اس کے بارے میں فی الوقت سوچ بھی نہیں سکتے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!