شیطانی لمحہ

انسان کو شیطان بننے میں ایک لمحہ لگتا ہے


جون کی چلچلاتی دوپہر تھی، دور دور تک ہوُ کا عالم تھا، کبھی کبھار کوئی انسانی چہرہ سڑک پر نظر آجاتا تو زندگی کے آثار جاگ اٹھتے۔ 
آج صبح سے دکان پر کوئی گاہک نہیں آیا تھا، میں سخت کوفت اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں اپنے آپ سے الجھ رہا تھا، تبھی ایک گاڑی پوری قوت سے بریک لگا کر میری دکان کے سامنے آرُکی، دروازہ کھول کر کوئی تیزی سے نکلا ، میرے غصے کی انتہا نہ رہی۔ 
ایک تو پہلے ہی گاہک نہیں آرہا، دوسرے تم نے آنے والے کا راستہ بھی روک دیا، ہٹاؤ اسے یہاں سے، 
لیکن شائد اسے زیادہ ہی جلدی تھی، قریب ہی تنگ سی گلی میں بھاگتا ہوا بولا، بس میں دس منٹ میں آیا، 
میں غصے سے بےقابو ہوگیا، جو آتا ہے یہی کہہ کر جاتا ہے پھر گھنٹوں واپس نہیں آتا، ابھی مزہ چکھاتا ہوں تمہیں!
میں نے ادھر ادھر دیکھا ، ارد گرد کوئی بھی نہیں تھا، نیچے بیٹھ کر گاڑی کے ان دونوں ٹائروں کی ہوا مکمل طور پر نکال دی، جو میرے سامنے تھے، پھر فخر سے جھومتا ، اپنے اس کارنامے پر اتراتا ہوا اٹھا، دکان بند کی اور گھر چلا گیا۔
اگلے دن آکر دکان کھولی تو گاڑی ابھی بھی وہیں کھڑی تھی، ساتھ والا دکاندار مجھے دیکھ کر کہنے لگا،
 یار! کل اس غریب کے ساتھ بہت برا ہوا، اس کا بچہ سیڑھیوں سے گرا اور سر پر گہری چوٹ لگنے سے بے ہوش ہوگیا، بے چارہ اطلاع ملنے پر آفس سے بھاگا چلا آیا، گلی تنگ ہونے کی وجہ سے گاڑی اندر نہیں جاسکتی تھی، وہ بچے کو لینے گیا تو کسی نے دونوں ٹائروں کی ہوا نکال دی۔ 
بچے کو لے کر گیا، اسے پچھلی سیٹ پر لٹا کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تو اس کی نظر ٹائروں پر پڑی ، پھر تو وہ بد حواس ہوگیا، کبھی گاڑی کو دیکھتا اور کبھی سڑک پر ادھر اُدھر بھٹکنے لگتا۔ 
تجھے تو پتہ ہے کل پہیہ جام پڑتال تھی، دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی، شائد کسی نے اس جوش میں اس کی گاڑی بھی پنکچر کردی۔ 
بہت ظلم ہوا اس کے ساتھ ، بہت دیر بعد ایک پرائیویٹ گاڑی آتی نظر آئی ، بیچ سڑک میں کھڑے ہوکر اسے روکا اور منت سماجت کرکے بچے کو اسپتال لے گیا لیکن بچہ جانبر نہ ہوسکا۔ 
ڈاکٹروں نے کہا ، ’’آپ نے آنے میں دیر کردی‘‘
مجھے لگا، جیسے میں پتھر کا ہوگیا ہوں، نہ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہوں ، نہ بول سکتا ہوں، بس اس کی آواز کانوں میں آرہی تھی، وہ کہہ رہا تھا،
انسان کو شیطان بننے میں ایک لمحہ لگتا ہے اور وہی ایک لمحہ اس کی پوری زندگی پر حاوی ہوجاتا ہے، کاش ہم سوچیں کہ ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے، 
تو کیوں نا کچھ ایسا کرکے جائیں کہ دوسروں کے دلوں میں ہمیشہ اچھی یادوں کے ساتھ زندہ رہیں۔ 
میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، جاکر اس سے معافی مانگ لیتا تو کیا ہوتا، میری سزا کے لیے یہی کافی تھا کہ عمر بھر اپنے ضمیر کی آگ میں جلتا رہوں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تحریر صبا اختر کی تخلیق ہے جن کے ادبی فن پارے کئی جریدوں اور آن لائن ویب پورٹل پر شائع ہوتے ہیں۔   

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!