ریا کاری کا انعام

دنیا میں وہ بڑے مخیر مانے جاتے تھے انہوں نے بڑے بڑے کام کئے

جب ایک وزیر صاحب کا انتقال ہوا تو وہ بہت مطمئن تھے کہ ان کی بخشش ضرور ہو جائے گی۔ 

ابھی پچھلے ہفتہ ہی ایک صحافی نے ( جو ان کا وظیفہ خوار تھا) ان کی ایک فوٹو البم تیار کی تھی جس میں ان کو پچاس سے زیادہ مشروعات کا افتتاح کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

جس میں بہت سے مدرسے، اسکول اور خیراتی ادارے شامل تھے۔ ہر جگہ ان کا نام پتھر پر کھود کر لگایا گیا تھا۔ ہر جگہ ان کی شان میں قصیدے پڑھے گئے اخباروں میں خبریں چھپیں اور خوب واہ واہ ہوئی تھی۔

جب وہ قبر میں اترے تو دیکھا کہ ان کے اعمال ایک بڑی ترازو میں تولے جا رہے ہیں۔ اخباروں اور اشتہاروں کا ڈھیر ہے وہ سب کے سب ترازو کے پلڑے میں بھر دئیے گئے۔ اتنے میں اعلان ہوا کہ جن جن کاموں کے اخبار اور اشتہار چھپے ہیں ان کا معاوضہ دنیا میں ہی دے دیا گیا۔ لوگوں سے خوب واہ واہ کرا دی گئی یہ اعلان سنتے ہی ایک فرشتے نے ایک پھونک ماری اور کاغذوں کا سارا ڈھیر ہوا میں اڑ گیا۔ ان کا پلڑا ہلکا ہو کر آسمان سے جا لگا۔ 

وزیر صاحب ایک دم رونے لگے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دنیا کی یہ واہ واہ ان کے سارے اعمال کو ضائع کردے گی اب ان کے پاس چند اسکولوں کا افتتاح رہ گیا تھا اس کے بارے میں اعلان ہوا کہ جن اداروں کے افتتاحی کتبوں پر ان کا نام پتھروں پر کھدا ہوا ہے( یعنی جن کی واہ واہ مرنے کے بعد بھی جاری کی گئی ہے) وہ سارے ادارے ان کے نام سے نکال دئیے جائیں۔
اس اعلان پر تو وزیر صاحب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے کیونکہ کوئی مدرسہ کوئی اسکول ایسا نہ تھا جس پر اپنے نام کا پتھر لگوانے کی انہوں نے پہلے سے تصدیق نہ کر لی ہو۔ وہ تمنا کرنے لگے کاش کوئی شخص جا کر ان تمام کتبوں کو توڑ دیتا جس پر ان کا نام کندہ تھا لیکن افسوس کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ تھا۔اب انہوں نے اپنے اعمال کے پلڑے کو دیکھا وہ بالکل خالی پڑا تھا ان کا سارا بھرم ٹوٹ گیا۔ 
دنیا میں وہ بڑے مخیر مانے جاتے تھے انہوں نے بڑے بڑے کام کئے لیکن شہرت کی چاٹ نے ان کے سارے اعمال کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ وہ رو روکر عرش الہٰی کی طرف دیکھنے لگے اور رحم کی بھیک مانگنے لگے۔اتنے میں ایک فرشتہ ایک چھوٹی سی ڈبیہ لے کر آیا اور اس کو ان کے اعمال کے پلڑے میں رکھ دیا۔ اچانک وہ پلڑا نیچے کی طرف آگیا وہ حیرت سے اس ڈبیہ کو دیکھنے لگے کھول کر دیکھا تو یاد آیا کہ ایک دن سردیوں کی رات میں جب وہ گھر واپس آرہے تھے تو دیکھا کہ مسجد کی نالی کا پانی راستہ میں بہہ رہا ہے۔ نالی بند ہے۔
انہوں نے چاہا کہ اس کو کھول دیں لیکن کوئی ڈنڈا یا لکڑی نہیں ملی تو انہوں نے اپنا ہاتھ گندی نالی میں ڈال کر کوڑا نکال دیا۔ نالی صاف ہو گئی پانی بہنے لگا۔ سڑک بھی صاف ہو گئی گھر آ کر انہوں نے اپنا ہاتھ صابن سے دھو لیا اس عمل کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ بس قادر مطلق نے اسی پر ان کی بخشش فرما دی۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!