’ شوٹ ایٹ سائٹ !‘‘

انڈونیشیا بھی فلپائن کے ’ قسائی ‘ کی راہ پر


جون 2016 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد میں فلپائن میں رودریگو دوترتے کی پارٹی برسر اقتدار آئی تھی۔  پارٹی کی جانب سے رو در یگو کو عہدۂ صدارت کے لیے نام زد کیا گیا اور وہ بہ آسانی منتخب ہوگئے تھے۔ اس سے قبل وہ داوائو شہر  کے میئر رہ چکے تھے۔ میئرشپ کے دوران وہ  ایک سخت گیر سیاست دان کے طور پر شہرت پاچکے تھے جو جرائم پیشہ عناصر کا دشمن ہے۔

منشیات کے اسمگلروں اور اس گھنائونے کاروبار سے وابستہ دوسرے تمام افراد سے اسے سخت نفرت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران رودریگو نے بار بار فلپائن کو اسمگلروں اور منشیات فروشوں  سے پاک کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی سیاست دانوں کی طرح زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ قوم سے کیا گیا وعدہ نہیں بھولے اور ملک کی باگ ڈور تھامتے ہی منشیات کے اسمگلروں اور فروخت کنندگان کے خلاف انتہائی سخت اقدامات کرنے کے احکامات جاری کردیے کہ انھیں دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔ ان احکامات کے بعد سے اب تک سات ہزار افراد مارے جاچکے ہیں جو کسی نہ کسی طور اس گھنائونے کاروبار سے منسلک تھے۔ 

رودریگو نے اقتدار ملنے کی صورت میں قوم سے ایک لاکھ منشیات فروشوں کو ہلاک کرنے کا وعدہ کیا تھا،ایک سال کے دوران وہ سرزمین فلپائن کو سات ہزر منشیات فروشوں سے پاک کرچکے ہیں  اور ان کے خلاف آپریشن اسی طرح جاری و ساری ہے۔ فلپائن کے منشیات فروشوں کے لیے رودر یگو موت کا فرشتہ بن گیا ہے اور اسے قسائی کہا جانے لگا ہے۔  پولیس کو دیکھتے ہی گولی ماردینے کے احکامات اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری فلپائنی صدر  کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہے مگر وہ اپنی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تنقید کی پروانہ کرتے ہوئے عوام کی اکثریت بھی ان کے اقدامات کی حامی ہے۔ رودریگو کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ صدر کی پالیسی کے نتیجے میں ملک میں منشیات کی خرید و فروخت اور استعمال میں کمی آئی ہے اور مستقبل میں یہ سرزمین منشیات کی لعنت سے بالکل پاک ہوجائے گی۔

فلپائن سے تحریک لیتے ہوئے اب انڈونیشیا نے بھی یہی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انڈونیشیا کے نیشنل پولیس چیف جنرل ٹیٹو کار ناویان نے گذشتہ ہفتے منشیات فروشوں کی بیخ کنی کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا جس کے تحت منشیات فروشوں کو گولی ماردینے کے احکامات جاری کیے جائیںگے۔  اس حکمت عملی کے لیے رودریگو سے تحریک لینے کا اعتراف کرتے ہوئے جنرل ٹیٹو نے کہاکہ انڈونیشیا میں منشیات فروشی جڑ پکڑتی جارہی ہے اور اس کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے موت کی سزا موثر ثابت ہوگی۔

انڈونیشیا میں سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ بڑھتی جارہی ہے۔ حال ہی میں انسداد منشیات کے لیے کام کرنے والے اداروں نے چارتائیوانی باشندوں کو ایک ٹن منشیات اسمگل کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے گذشتہ برس کے اواخر میں نیشنل نارکوٹکس ایجنسی کے سربراہ کمانڈر جنرل بودی واسیسو نے پولیس سے رودریگو جیسی پالیسی اپنانے کی درخواست کی تھی۔  اس کے جواب میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے پولیس کو منشیات فروشوں کو گولی مارنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

انڈونیشیا میں منشیات کے اسمگلروں کے لیے پھانسی کی سزا مقرر ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس ضمن میں انڈونیشی حکومت پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ رہا ہے کہ پھانسی کی سزا کو قید سے بدل دیا جائے۔ پولیس چیف کی جانب سے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد ان اداروں کی جانب سے حسب سابق تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فلیم کاٹن نے اس اقدام کو پولیس کی سربراہی میں قتل عام کی مہم قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ رودریگو انسانوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے۔ اسمگلروں کے شبہے میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو بھی مارا جارہاہے لہٰذا انڈونیشی پولیس کو ایسی حکمت عملی اپنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

دوسری جانب انڈونیشی صدر سے لے کر پولیس اور اینٹی نارکوٹکس ایجنسی کے چیف تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ منشیات کی لعنت سے چھٹکارا اس گھنائونے کاروبار سے وابستہ افراد کے خاتمے کی صورت ہی میں ممکن ہے

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!