گوجوانوالہ میں27 عورتوں کا سیریل کلر کیسے مارا گیا

سب خواتین متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں


سیریل کلرز کے ہاتھوں قتل و غارت کی وارداتیں مغرب میں تو عام تھیں، گزشتہ سو سال کے دوران برطانیہ ،امریکہ اوردیگر ممالک میں جنسی جنونیوں اور نفسیاتی مریضوں کے ہاتھوں قتل و غارت کے ایسے ایسے بھیانک جرائم سامنے آئے جن کی تفصیلات پڑھ کر ہر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ان جرائم کی تفصیلات کے بارے میں متعدد کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں، جن میں سے بعض مجرم تو آج تک پکڑے نہیں جا سکے، جس کی مشہور زمانہ مثال ڈیڑھ سوسال قبل برطانیہ کے قاتل جیک دی رپرکی ہے، جس کے بارے میں آج بھی شائع ہونے والی تحریریں قاری شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس قاتل کو پکڑنے میں ناکامی آج بھی برطانوی نظام انصاف کے دامن پر داغ کی صورت میں موجود ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے سیریل کلرز سامنے آتے رہے ہیں، جن میں سو سے زائد بچوں کے قاتل جاوید اقبال ،مولوی محمد انوراور دیگر کی چشم کشا مثالیں موجود ہیں، لیکن گوجرانوالہ میں بھی ایک ایسا سیریل کلر سامنے آیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے 27 خواتین کو قتل کیا جبکہ درجنوں زخمی ہوئیں۔

پولیس ذرائع سے اس مجرم کے بارے میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کی روشنی میں ثابت ہورہاہے کہ سماجی ناہمواریوں کے باعث ایک اچھا بھلا انسان بے گناہ لوگوں سے انتقام کی راہ پر گامزن ہو گیا۔

یہ رواں سال ماہ جون کی بات ہے کہ مختلف علاقوں میں خواتین کو قتل کرنے کے واقعات پیش آنے لگے، تھانہ کینٹ،سبزی منڈی، اروپ، کامونکی، صدرگوجرانوالہ کے تھانوں میں صرف 45 دن کے اندر 6 خواتین کو قتل کردیا گیا، اور سب کو ایک ہی طرح یعنی سر پر اینٹیں مار کر قتل کیا گیا۔ 

پولیس اس حوالہ سے پریشان تھی کہ سب خواتین متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں اور کسی کے ساتھ جنسی زیادتی بھی نہیں ہوئی تھی۔ سی پی او اشفاق احمد خان نے یہ کیس سی آئی اے کے حوالہ کرتے ہوئے ڈی ایس پی عمران عباس چدھڑ کو ذمہ داری دی۔ 

عمران عباس چدھڑ نے ٹیم کے ہمراہ کام شروع کردیا اور 18 جولائی کی رات کو مخبری پر صنعت روڈ گلہ پائل میرج ہال والا کے قریب ناکہ بندی کر رکھی تھی کہ بلا نمبری موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے، جنہیں مشکوک ہونے پر روکا گیا تو انہوں نے فائرنگ کر دی، دونوں افراد سے فائرنگ کے بعد ایک ملزم مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہو گیا۔ ملزم کی شناخت کا عمل شروع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کا نام محمد یوسف اور سیالکوٹ کا رہائشی ہے، مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ یہی ملزم اب تک 27 خواتین کو قتل کرچکا ہے اور تین اضلاع میں اس کے خلاف مقدمات درج ہیں۔

ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ نے بتایا کہ ملزم پہلے بھی دو دفعہ جیل جا چکا ہے اور عرصہ دراز بعد بحرین میں کام کرنے کے بعد واپس آیا جہاں پر اس نے ایسی خواتین کو اپنا نشانہ بنایا جو کہ اکیلی ہوا کرتی تھیں۔ لاری اڈوں، رکشہ اڈوں اور رش والے مقامات سے معمر عورتوں کو مدد کرنے کے بہانے اپنے ساتھ لے جاتا اور سنسان جگہ پر لے جا کران سے نقدی و قیمتی اشیاء چھین کر تشدد کر کے انہیں قتل کر دیتاہے۔ 

بعدازاں ملزم نے گوجرانوالہ کا رخ کیا اور گزشتہ 45 دن میں 6 خواتین کو مار ڈالا،ڈی ایس پی عمران عباس نے بتایا کہ خواتین آسان نشانہ بن جاتی ہیں، مزاحمت کم ہوتی ہیں، ملزم ان سے تھوڑی بہت رقم اور زیورات چھینتا اور پھر سر پر اینٹیں پر مار کر قتل کر دیتا۔ ملزم شکل سے پرہیز گار شخص دکھائی دیتا تھا اس لیے لوگ اس پر اعتبار کرجاتے لیکن خواتین کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی موت کی طر ف جارہی ہیں۔ ایک عورت کو ملزم نے صرف دس روپے کی خاطر مار ڈالا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!