پہلا قومی پرچم بنانے والا شخص قبر میں بھی انصاف کا منتظر

ماسٹر الطاف حسین 1967میں انتقال کرگئے


پاکستان کا پہلا قومی پرچم تیار کرنے والے ماسٹر الطاف حسین مرحوم کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ماسٹر الطاف حسین کی قومی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں قومی تاریخ میں نمایاں حیثیت دی جائے۔ 

سرفرازکالونی حیدرآباد کے رہائشی ظہور الحسن نے کہا کہ ان کے والد ماسٹر الطاف حسین کو وطن عزیز پاکستان کا پہلا قومی پرچم ساز ہونے کا عظیم تاریخی اعزاز حاصل ہے، جنہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے حکم پر خود اپنے ہاتھوں سے 1947 میں پہلا قومی پرچم تیارکیا۔ 

ماسٹر الطاف حسین کی قومی پر چم تیار کرتے ہوئے  بنائی گئی ایک تاریخی یادگار تصویراٹھارہ اگست 1947کوایک امریکی میگزین میں  بھی شائع ہوئی تھی۔ ماسٹر الطاف حسین کے پہلے قومی پرچم ساز ہونے کے تمام مستند اور دستاویزی ریکارڈ موجود ہے تاہم حکومت نے سرکاری سطح پر ان کی اس قومی خدمات کااعتراف نہیں کیا۔

ظہور الحسن نے کہا کہ ماسٹر الطاف حسین 1967میں انتقال کرگئے تھے ان کی وفات کے بعد مرحوم کی بیوہ شکیلا بیگم نے ارباب اختیار کو درخواستیں ارسال کیں تاہم وہ بھی اپنی خواہش کو دل میں  لیے 1993میں فوت ہوگئیں۔ انہوں نے حکومت اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ تحریک آزادی کی دیگر قومی شخصیات کی طرح ان کے والد ماسٹر الطاف حسین کی قومی خدمات کو نمایاں حیثیت دی جائے اوران کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!