چین نے بجلی کے کئی منصوبوں سے ہاتھ کھینچ لیے ۔ ۔

چین نے سی پیک کے تحت توانائی کے چار بڑے منصوبے ختم کردیے

Image result for CHINESE CITIZEN in PAKISTAN POWER PLANT
چین نے سی پیک کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے توانائی کے چار بڑے منصوبے ختم کردیے ہیں. 

چین نے سی پیک کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے توانائی کے چار بڑے منصوبے ختم کردیے ہیں جبکہ تین منصوبوں  پر ابھی تک کام کا آغازنہ کیا جاسکا جس سے ان منصوبوں  کا مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔ 

آسمانی نیوز کو دستیاب دستاویز کے مطابق بلوچستان میں 3 ارب  96 کروڑ ڈالر مالیت کے کوئلے سے چلنے والے گڈانی پاور پراجیکٹ پر کام ختم کر دیا گیا ہے، آئی پی پی موڈ کے تحت 660 میگاواٹ کے دو منصوبوں کے بارے میں وزارت پانی وبجلی نے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ ان منصوبوں پر کام ختم کر دیا گیا ہے۔

دستاویزکے مطابق پنجاب میں مظفر گڑھ کے مقام پر کوئلے سے چلنے والے 660 میگاواٹ کے دو منصوبوں پر ابھی تک کام کا آغاز ہی نہیں کیا جا سکا۔ ان منصوبوں  پر ایک ارب 60کروڑ ڈالر لاگت آنی تھی، اس کے علاوہ رحیم یار خان میں کوئلے سے چلنے والے 1320میگاواٹ کا ایک منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے اور اس منصوبے پر ابھی تک کام کا آغاز نہیں  کیا جاسکا اس منصوبے کے لئے لیٹر آف انٹرسٹ پنجاب حکومت نے جاری کیا تھا۔ کلرکہار کے علاقے سالٹ رینج میں کوئلے سے چلنے والے 300 میگاواٹ کے ایک منصوبے پر بھی کام ختم کر دیا گیاہے، اس منصوبے پر مالی معاونت فراہم کرنے والے ادارے نے مالی امداد فراہم نہیں کی جس سے یہ منصوبہ ختم کر دیا گیاہے۔  

مذکورہ بالا تمام منصوبوں کے لئے چین نے مالی معاونت فراہم کرنی تھی تاہم ان کی جانب سے امداد فراہم نہ کرنے کی وجہ سے توانائی کے ان منصوبوں میں سے بعض پر کام ختم کر دیا گیا ہے جبکہ بعض پر کام کھٹائی میں پڑگیا ہے۔ 

اس حوالے سے ترجمان وزارت منصوبہ بندی عاصم خان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت منصوبوں کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں  پر فراہم کئے جارہے ہیں۔ بعض منصوبوں پر کام کا آغاز نہیں کیا جاسکا اور بعض منصوبے ایسے بھی تھے جن کی تکمیل کے لئے زیادہ عرصہ درکار تھا تو انھیں  ختم کردیا گیاہے اور ایسا دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ہوا ہے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!