اے، بی یا سی۔۔۔۔۔۔ اپنے لیے گریڈ خود منتخب کرلیں

جارجیا یونی ورسٹی نے طلبا کو انوکھی ’سہولت ‘ فراہم کردی

محنتی اور ہونہار طلبا امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ سخت محنت کرتے ہیں۔ یوں تو وہ سارا سال ہی پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں، مگر امتحانات کا زمانہ قریب آنے پر ان کا تمام وقت پڑھائی کے لیے مخصوص ہوجاتا ہے۔ اس محنت کا پھل انھیں اچھے گریڈ میں کام یابی کی صورت میں ملتا ہے۔ 

بعض نکمے طالب علم یہ بھی سوچتے ہیں کہ کاش محنت کیے بغیر وہ امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوسکتے۔ پاکستانی طلبا کی تو نہیں البتہ امریکا کی جارجیا یونی ورسٹی کے طالب علموںکی یہ خواہش ضرور پوری ہوگئی ہے۔ وہاں طلبا کو کچھ شرائط کے ساتھ یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے لیے گریڈ منتخب کرسکتے ہیں! دراصل یہ ’ سہولت ‘ یونی ورسٹی کے تمام طلبا کو حاصل نہیں ہے بلکہ پروفیسر رچرڈ واٹسن نے اپنے شاگردوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے لیے مرضی کا گریڈ منتخب کرسکتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان سے اس اقدام کی کوئی وضاحت بھی طلب نہیں کی جائے گی، بس ان کا اسٹریس میں مبتلا ہونا شرط ہے۔ 
دراصل پروفیسر ڈاکٹر رچرڈ واٹسن نے طلبا کو یہ اختیار یا سہولت ’ اسٹریس میں کمی‘ کی پالیسی کے تحت دیا ہے۔ یہ پالیسی پروفیسر نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے طلبا کے لیے متعارف کروائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت اگر کوئی طالب علم اپنے حاصل کردہ گریڈز سے مطمئن نہیں ہے اور اس وجہ سے ذہنی دبائو محسوس کررہا ہے تو وہ صرف ایک ای میل بھیج کر حسب خواہش گریڈ حاصل کرسکتا ہے۔ یہی نہیں اگر کورس ورک کے دوران اسے گروپ کی میٹنگ میں شرکت کرنا بھی اسٹریس میں مبتلا کرسکتا ہے تو اس پالیسی کے تحت اسے بنا کوئی سبب ظاہر کیے میٹنگز سے غیرحاضر ہونے کی اجازت ہوگی۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ پڑھے لکھے بغیر یا برائے نام تیاری کے ساتھ امتحان دیں اور ’ ذہنی دبائو‘ کا بہانہ بناکر ان طلبا کے برابر کھڑے ہوجائیں جنھوں نے پورے سیمسٹر محنت کے ساتھ پڑھا ہو اور دل جمعی سے امتحان کی تیاری کی ہو۔
پروفیسر واٹسن کی جانب سے اس پالیسی کے دفاع میں یہ جواز پیش کیا گیا ہے ’’ذہنی دبائو سے دوچار ہونے کی صورت میں ایک طالب علم کا جذباتی ردعمل دوسرے طلبا پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔‘‘ پروفیسر واٹسن طلبا کو انرجی انفارمیٹکس اور ڈیٹا مینجمنٹ کے مضامین پڑھاتے ہیں اور انھوں نے دونوں مضامین کے لیے یہ پالیسی رکھی گئی ہے۔ 
اس پالیسی یا حکمت عملی کو کئی لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس سے ہونہار طلبا کی حوصلہ شکنی اور پڑھائی سے جی چُرانے والے طالب علموں کی ہمت افزائی ہوگی۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!