Uncombable Hair Syndrome

ایسی بیماری جس میں بال کانٹوں کی طرح سیدھے کھڑے رہتے ہیں

7 سالہ شیلاین ایک نادر مرض میں مبتلا ہے جی نہیں، آپ غلط سمجھے یہ کوئی ایسا مرض نہیں ہے جس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا وہ چلنے پھرنے اور دوسرے بچوں کی طرح زندگی گزارنے سے معذور ہو۔ وہ عام بچوں کے مانند کھاتی پیتی، بھاگتی دوڑتی اور پڑھتی لکھتی ہے۔ وہ ہر طرح سے نارمل ہے بس اس کے بال منفرد ہیں۔ در اصل اس مرض یا کیفیت کا تعلق بھی بالوں سے ہے۔یہ کیفیت طبی اصطلاح میں Uncombable Hair Syndromeکہلاتی ہے۔

نام سے آپ یقینا سمجھ گئے ہوںگے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے بال ایسے ہوجاتے ہیں کہ ان میں کنگھی کرنا ممکن نہیں رہتا۔ 
ہر انسان کے بال کچھ بڑھنے کے بعد جڑوں سے لٹک جاتے ہیں اس پوزیشن میں بالوں میں بہ آسانی کنگھی کی جاسکتی ہے تاہم شیلا کے بال جڑوں سے لٹکنے کے بجائے اوپر کی طرف بڑھتے ہیں اور کانٹوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔ شیلا کا سر دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے اس نے حجام سے بالوں کو ’’اسپائیک‘‘ کروایا ہو۔ یہ فیشن مغربی ٹین ایجنرز میں بے حد مقبول ہے۔ اس فیشن میں بالوں کو جل وغیرہ کی مدد سے سیدھا کھڑا کروالیا جاتا ہے مگر اس بچی کے بال تو قدرتی طور پر کھڑے ہوئے ہیں۔ 
شیلا کا تعلق آسٹریلیا کے شہر میلبورن سے ہے۔ پیدائش کے وقت اس کے بال عام بچوں کی طرح تھے مگر تین ماہ کی عمر میں بالوں کا رنگ تبدیل ہونے لگا اور وہ کانٹوں کے مانند سیدھے ہونے لگے۔ شیلا کو اپنے غیر معمولی بالوں کا احساس چار برس کی عمر میں ہوا جب اسے بچوں اور بڑوں کی زیادہ توجہ ملنے لگی تھی۔ پہلے پہل اسے غیر معمولی توجہ کی وجہ سے کافی الجھن ہوتی تھی پھر والدین کے سمجھانے پر کہ اس کے بال سب سے الگ ہیں اس لیے سب اسے غور سے دیکھتے ہیں، شیلانے اس صورت حال سے سمجھوتا کرلیا۔ شیلا کے کانٹوں کی طرح کھڑے بالوں کو عام بچوں کے بالوں کی طرح بنانا ممکن نہیں۔ اس کی والدہ جن کا نام سلیسٹ ین ہے، ہرصبح پہلے اس کے سر میں الجھے ہوئے بال سلجھانے والامحلول لگاتی ہیں ۔ پھر وہ خاص قسم کے چوڑے دندانوں والے کنگھے سے بال بناتی ہیں۔ اس کے بعد شیلا کے والد اس کے بالوں میں ڈرائر سے گرم ہوا پھینکتے ہیں، اس سے بال جدا جدا اور بالکل سیدھے ہوجاتے ہیں۔
 ایک سال پہلے تک شیلا اور اس کے والدین کو علم نہیں تھا کہ اس کے منفرد بالوں کا سبب ایک مرض یا طبی کیفیت ہے، اب وہ اس بارے میں عام لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ انسٹا گرام کا سہارا لے رہے ہیں۔ انسٹاگرام پر انھوں نے شیلا کا اکائونٹ بنا رکھا ہے جہاں وہ اپنی بیٹی کی تصاویر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ سلیسٹ کے مطابق شیلا کے منفرد بالوں کا راز دریافت کرنے پر جب وہ لوگوں سے کہتی ہیں کہ یہ ایک بیماری کی وجہ سے ہے تو بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ میں ان سے مذاق کررہی ہوں۔ پھر جب میں انھیں گوگل پر تلاش کرنے کا مشورہ دیتی ہوں تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ ایسی عجیب و غریب بیماری بھی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق یہ مرض عموماً شیر خوار گی کے زمانے میں لاحق ہوتا ہے۔ یہ سفیدی مائل سنہرے یا خاکی رنگ کے بالوں والے بچوں میں زیادہ عام ہے۔ طبی ماہرین اس مرض یا کیفیت کو جنیاتی خیال کرتے ہیں اگرچہ شیلا کے خاندان میں کوئی اس میں مبتلا نہیں۔ یہ ایک لا علاج مرض ہے تاہم عمر بڑھنے پر از خود ٹھیک بھی ہوسکتا ہے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!