عمراکمل کو کس نے نکالا؟

پی سی بی کا جواب کئی سوال چھوڑ گیا

چند سال قبل قومی کرکٹ ٹیم کے ایبٹ آبادمیں تربیتی کیمپ کے دوران دیر سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی باصلاحیت کرکٹر سے ملاقات ہوئی، نوجوان بیٹسمین مصباح الحق کی قیادت میں چیمپئنز ٹرافی کی تیاریاں کرنے والے کھلاڑیوں کی معاونت کر رہا تھا۔

ٹریننگ کے وقفے میں مقامی بولرز کا سامنا کرتے ہوئے اس نے کئی دلکش سٹروکس کھیلے تو ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور اور قومی کرکٹرز بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے، مجھے بھی خوش فہمی ہوئی کہ وہ بہت دور تک جائے گا، وہاں موجود دیگر نوجوان کرکٹرز نے شکوہ بھی کیا کہ ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع محدود ہیں،کوئی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوبھی جائے تو میڈیا توجہ نہیں دیتا۔

اس صورتحال پر دکھ بھی ہوا اور ساتھ ہی شدت کے ساتھ احساس بھی کہ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے کھلاڑی کوشش کریں تو کسی نہ کسی طور نظروں میں آجاتے ہیں،کارکردگی اچھی ہو تو ڈسٹرکٹس اور ریجنز میں ووٹوں کی سیاست کے باوجود ان کو آگے بڑھنے کا موقع بھی مل ہی جاتا ہے،اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج وہ نوجوان کرکٹرکہیں نظر نہیں آتا، چند روز قبل اس سے بات ہوئی تو انتہائی دلبرداشتہ نظر آیا۔

اس تمہید کا مقصد ہے کہ ملک میں ہزاروں کرکٹرز اور ان میں سینکڑوں باصلاحیت بھی ہوتے ہیں لیکن قومی ٹیم تک رسائی کا موقع چند خوش نصیبوں کو ہی ملتا ہے،اکمل برادران بھی ان خوش قسمت کھلاڑیوں میں شامل ہیں،ایک بھائی کامران کو ملک کی نمائندگی کا موقع ملا، کئی تنازعات اور شکوک کے باوجود بار بار ٹیم میں کم بیک کرتے رہے،حال ہی میں ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل میں کارکردگی کی بنا پر دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے منتخب ہوئے لیکن کارکردگی نہ دکھاپائے۔

عدنان بھی انٹرنیشنل کرکٹر کا تمغہ سینے پر سجانے میں کامیاب ہوئے۔ عمر اکمل نے کیریئر کے آغاز میں عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے روشن مستقبل کی نوید سنائی لیکن بعد ازاں ٹریک سے اترتے اور چڑھتے رہے۔ میدان میں پرفارمنس سے زیادہ غیر ضروری سرگرمیوں اور تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہے۔

خوش قسمتی سے ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنے کیریئر پر کلہاڑی مارتے نظر آئے۔ انہوں نے کبھی اس بات کا ادراک نہیں کیا کہ باصلاحیت ہونے کا چرچا نہیں بلکہ میدان میں کارکردگی کسی کھلاڑی کو سٹار بناتی ہے۔ ماضی کے تنازعات پر نظر ڈالی جائے تو ورلڈکپ 2015 کے اختتام پر ہیڈ کوچ وقاریونس نے پی سی بی کو رپورٹ میں عمراکمل اور احمد شہزاد کے غیرسنجیدہ رویوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا، نومبر 2015 میں حیدرآباد میں ڈانس پارٹی میں ملوث پائے جانے کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لیا تھا اس موقع پر پی سی بی نے تحقیقات کرتے ہوئے انھیں کلیئر کردیا تھا۔

گزشتہ سال فیصل آباد میں ایک سٹیج ڈرامہ کے دوران تھیٹرکی انتظامیہ سے الجھ پڑے تھے،لاہور میں ایک ٹریفک وارڈن سے جھگڑے پڑے اور بڑی مشکل سے معاملہ ٹھنڈا ہوا،گزشتہ سال بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 کے موقعہ پر عمراکمل نے سابق کپتان عمران خان سے ملاقات میں اپنے بیٹنگ آرڈر کے بارے میں شکایت کردی، رواں سال پاکستان ون ڈے کپ کے دوران پنجاب ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے ساتھی پلیئر جنید خان پر اچانک لاپتہ ہونے کاالزام عائد کیا جس کے بعد پلیئر نے ویڈیو بیان میں کپتان کے بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ دونوں کو میچ کا 50فیصد جرمانہ ہوا۔

پاکستان ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے لیے انگلینڈ پہنچی تو عمر اکمل بھی 15رکنی سکواڈ میں شامل تھے،خیال کیا جارہا تھا کہ ان کا ’’پاور ہٹر‘‘ کے طور پر کردار اہم ہوگا لیکن انہیں یہ کہہ کر واپس وطن بھیج دیا گیا کہ مختصر تربیتی کیمپ کے دوران لئے جانے والے فٹنس ٹیسٹ میں وہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترسکے،عمراکمل کی جگہ حارث سہیل کو ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن ان کو ایک میچ بھی کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا،پی سی بی نے مستقبل کی ضروریات کے لیے کھیپ تیار کرنے کی سوچ کیساتھ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہائی پرفارمنس کیمپ شروع کیا تو عمراکمل اچانک انگلینڈ پہنچ گئے،ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی ٹرینر کی مدد سے اپنی فٹنس کے مسائل دور کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

وطن واپسی پر عمر اکمل نیشنل کرکٹ اکیڈمی آئے تو نیا دھماکہ ہوگیا،اگلے روز ہی پریس کانفرنس میں انہوں نے ہیڈکوچ مکی آرتھر پر گالیاں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مجھے ٹریننگ سے روکا گیا، بتایا گیا کہ یہاں سنٹرل کنٹریکٹ کے حامل کرکٹرز ہی آسکتے ہی، بعد ازاں ٹی وی انٹرویوز اور سوشل میڈیا پر بھی انہوں نے الزامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چیمپئنز ٹرافی سکواڈ سے ڈراپ کئے جانے کا فیصلہ بھی ہیڈ کوچ کے تعصب کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے سازش کے تحت دیوار کے ساتھ لگانے انگلینڈ میں ڈمی ٹیسٹ کے ذریعے سکواڈ سے باہر نکالنے کا جواز تراشنے کا الزام بھی عائد کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اظہر علی یا محمد حفیظ کی پلیئنگ الیون میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے مجھے نکالا گیا۔دوسری جانب پی سی بی نے پریس ریلیز میں عمر اکمل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل کرنے کے لیے 7مواقع دیئے گئے، دورہ ویسٹ انڈیز سے قبل فٹنس پروگرام کے مطابق بہتری لانے میں ناکام ہونے پر ڈراپ کئے گئے تھے، چیمپئنز ٹرافی سے قبل ایک مزید ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ان کو 15 رکنی سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا، تاہم انگلینڈ میں مطلوبہ فٹنس ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

اگرچہ پی سی بی عمر اکمل کو جاری کئے گئے شوکاز نوٹس کے جواب کا منتظراور عمراکمل کو اس دوران خاموش رہنے کی ہدایت کرچکا ہے لیکن نوجوان بیٹسمین کاغصہ ابھی ٹھنڈا نہیںہوا۔

پی سی بی کی جانب سے عمر اکمل کے الزامات کا جواب بھی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے،پریس ریلیز کے مطابق نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں فٹنس ٹیسٹ کی بنیاد پر ہی ان کو چیمپئنز ٹرافی کے لیے 15 رکنی سکواڈ میں شامل کیا گیا،عمر اکمل کا بھی یہی کہنا ہے کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کی موجودگی میں ہی فٹنس جانچ کر انہیں انگلینڈ رخصتی کا پروانہ جاری کیا گیا تھا،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور میں فٹ قرار دیا جانے والا کھلاڑی سفر کے دوران ہی ان فٹ کیسے ہوگیا۔

پریکٹس کے دوران انجری، ہیمسٹرنگ یا کوئی مسئلہ ہوجائے تو الگ بات ہے،وہاں کوئی ایسی وجہ نظر آئی، نہ بتائی گئی،اس صورتحال میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یا تو این سی اے میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران عمراکمل کیساتھ ’’خصوصی‘‘ رعایت برتی گئی تھی یا پھر وہ فٹ تھے اور انگلینڈ میں ہیڈ کوچ کے تعصب کا شکار ہوگئے،عمر اکمل کے الزام کے مطابق اگر اظہر علی اور محمد حفیظ کی پلیئنگ الیون میں جگہ بچانے کے لیے ان کو واپس بھجوادیا گیا تو سازشی تھیوری کے خدشات سامنے آتے ہیں، ماضی میں بھی کئی بار دیکھا گیا ہے کہ سخت گیر غیرملکی کوچ بھی پاکستان کرکٹ کا حصہ بنتے ہی اس کا روایتی مزاج اپنا لیتے ہیں۔

ڈیوواٹمور اس کی ایک بڑی مثال ہیں،مکی آرتھر تو پروٹیز اور بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹرز کیساتھ الجھنے کی منفی یادیں اپنے ساتھ لے کر پاکستان آئے تھے،اس میں کوئی شک نہیں کہ عمراکمل کے غیرسنجیدہ رویہ نے ان کے کیریئر کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن ماضی کی بناپر رائے قائم کرتے ہوئے امتیازی سلوک کرنا جائز ہے تو محمد عامر کو کبھی ٹیم میں واپس نہیں آنا چاہیے تھا،محمد حفیظ اور اظہر علی سپاٹ فکسرز کے بارے میں لمبی چوڑی تقریریں کرنے اور رسمی اعلان بغاوت میں اپنی ایمانداری کے جھنڈے گاڑنے کے بعد آج محمد عامر کیساتھ کھیل رہے ہیں، قومی ٹیم میں واپسی کے لیے مضبوط امیدوار سلمان بٹ بھی سنٹرل کنٹریکٹ کے حامل نہیں،ایک عرصہ قبل ملک کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے ان پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے دروازے بند نہیں ہوئے،اوپنر نے درخواست کی تو انہیں پی سی بی کے زیر اہتمام ہائی پرفارمنس کیمپ میں بھی شامل کرلیا گیا۔

اس سے قبل شعیب ملک اور سہیل تنویر سمیت کئی کرکٹرز قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے باوجود درخواست کرکے تربیتی کیمپس میں منتخب کھلاڑیوں کیساتھ ٹریننگ کرتے رہے ہیں، عمراکمل کم بیک کرنا چاہتے تو ان کو بھی موقع دینے میں کیا حرج تھا؟ اگر معیار پر پورا اترتے اور قومی ٹیم کی ضرورت ہوتے تو زیر غور لایا جاتا۔ مکی آرتھر اور انضمام الحق کی گردن پر بندوق رکھ کر تو اپنا انتخاب یقینی نہیں بناسکتے تھے۔پاکستان کرکٹ کا تماشا لگانے کے بجائے اس معاملے کو مل بیٹھ کر این سی اے میں ہی حل کیا جاسکتا تھا

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!