پیسے کی ہوس نے خونی رشتوں کا تقدس پامال کر دیا

بہنوئی نے سالے کو قتل کرواکر اغوائے برائے تاوان کا ڈرامہ رچایا


بلاشبہ دولت کی ہوس انسانی رشتوں کے تقدس کو پامال کردیتی ہے اور انسان اپنے خونی رشتے کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ایسا ہی ایک واقعہ قصبہ سنجر پور میں پیش آیا، سندھ پنجاب بارڈر کے قریب تحصیل صادق آباد کا یہ علاقہ ہے۔ پیسوں کی ہوس نے ہی اس اندوہناک واقعہ کو جنم دیا۔

واقعہ بیان کرنے سے پہلے اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ ندیم اسلم چک نمبر 180 پی کے کھاتے پیتے گھرانے کا چشم چراغ تھا، والد کی وفات کے بعد چک کی نمبرداری اس کو ملی‘ غلط سوسائٹی کی وجہ سے اپنی ساری زمین بیچ کر یہ کنبہ صادق آباد شہر جا بسا۔

نمبرداری اور تھانہ میں چٹی دلالی کی وجہ سے خاندان اور لوگوں پر ندیم اسلم کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی اپنے کزن و سالے محمد افتخار کے ساتھ بہت دوستی تھی، جس کی سنجر پور شہر میں برتنوں کی دکان تھی اور سائیڈ بزنس کے طور پر جانوروں کا بیوپار بھی کرتا تھا۔ پیسوں کی ریل پیل نے ندیم اسلم کی نیت کو خراب کر دیا اور وہ افتخار سے بڑی رقم اینٹھنے کی کوششیں کرنے لگا۔

ایک دن ندیم اسلم نے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے افتخار کو ایک فرضی کہانی سنائی کہ میرے چک میں ایک آدمی نے اپنا پرانا مکان گرایا ہے جس کی بنیادوں سے بیس کلو سونا نکلا ہے، مالک مکان ڈرتا ہے کہ اگر حکومت کو پتہ چل گیا تو کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ سونا اس نے زمین میں ہی دفن کر رکھا ہے کیوں نہ ہم اس سے یہ سونا اونے پونے خرید لیں۔

اس واقعہ کا ایک اور کردار اصغر جٹ ہے،جو چک نمبر180پی میں کچھ عرصہ قبل اس کے چچا کے مکان میں رہ رہا تھا، جسے ندیم نے ایک بندے کو قتل کرنے کی سپاری دی۔

قتل کے تمام انتظامات مکمل کرنے کے بعد ندیم، افتخار کی دکان پر آیا ہے اور شام کو اپنی موٹر سائیکل پر لے کر چک نمبر 180 کی طرف لے گیا۔

پروگرام کے مطابق بندور عباسیاں چک سے پہلے ہی اس کو اصغر جٹ راستہ میں ملا، ندیم اسلم محمد افتخار کو اس کے حوالے کیا اور کہا تم اس کو سونا دکھائو، میں تھوڑی دیر بعد آکر اس کو واپس لے جائوں گا۔ اصغر نے افتخار کو کھیتوں میں لے جا کر اس کی گردن کاٹ دی اور گردن کو ایک بوری میں ڈال کر ندیم کے حوالے کر دیا۔ جس نے کھوپڑی چالیس، پچاس کلو میٹر دور چوک بہادر پور کے قریب مین روڈ پر کماد کی فصلوں میں پھینک دی، نعش کی شناخت چھپانے کیلئے اس کے کپڑے اتار لئے، نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف جگہوں پر پھینک دیے، لیکن اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے‘ قتل کے تیسرے روز ہی پولیس تھانہ کوٹ سبزل کی دن رات کی کوششوں سے ملزم کا فون ٹریس کرکے اس کو گرفتار کرلیا گیا کیونکہ مقتول محمد افتخار کے موبائل سے ندیم اسلم نے اپنے چھوٹے بھائی نعیم اسلم کے ذریعہ اگلے دن میسج کروائے کہ میں آج شام گھر آجائوں گا اور خود اپنے دیگر سالوں کے ساتھ مل کر افتخار کو تلاش کرنے لگا اور اگلے دن یعنی قتل کے تین دن بعد دوبارہ میسج کروایا کہ 60 لاکھ کا بندوبست کردو ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔

پولیس کی توجہ اغوا برائے تاوان کی طرف مبذول کروانے کا مقصد یہ تھا کہ نعش گل سڑ جائے اور شناخت کے قابل نہ رہے۔ مقتول افتخار کے بڑے بھائی عبدالرزاق کو اپنے بہنوئی پر شک تھا اور پولیس تھانہ کوٹ سبزل بھی ندیم اسلم کی ریکی کررہا تھا، اسی دوران ڈر کی وجہ سے ندیم اسلم نے اپنے وکیل کو ساری کہانی سنا ڈالی۔ وہاں پر موجود شخص نے فوری اطلاع تھانہ کوٹ سبزل کو دی۔

پولیس نے پہلی ہی سارا ڈیٹا نکلوایا ہوا تھا، شک یقین میں بدل گیا۔ فوری پولیس پارٹی تشکیل دی گئی اور موقع پر ہی ملزم ندیم اسلم کو پکڑ لیاگیا۔ ابتدائی تفتیش میں ہی اس نے موقع واردات اور نعش کے بارے میں بتا دیا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!