محکمہ اینٹی کرپشن خود ہی بدعنوانیوں کا محافظ بن گیا

افسروں کی ملزمان سے ساز باز کے نتیجے میں انکوائریاں بند


بلاشبہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دار و مدار ایمانداری، فرض شناسی اور نظم و ضبط پر ہوتا ہے، کیوں کہ بصورت دیگر ملکوں کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ وطن عزیز کو بھی کرپشن سے پاک رکھنے اور نظم و ضبط سے چلانے کیلئے اس کے قیام سے ہی قوانین بنائے گئے، اس وقت اینٹی کرپشن قوانین کے تحت ادارے کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ 

قبل ازیں صرف لاہور میں اینٹی کرپشن کا دفتر تھا اور کرپشن کی شکایت پر دیگر شہروں میں کارروائی کیلئے ٹیم کو بھیجا جاتا تھا، لیکن بعدازاں وقت گزرنے کے ساتھ اس ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر بھی پھیلتے گئے اور یوں 2004 میں گوجرانوالہ میں اس کے ریجنل آفس کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ کرپٹ افسران و ملازمین جو ادارے کی بدنامی کا موجب بن رہے ہوں کو فوری قابو کیا جا سکے۔ 

سیالکوٹ، نارووال، گجرات، منڈی بہائو الدین اور حافظ آباد میں بھی ڈیپارٹمنٹ کے سب آفس قائم کر دیئے گئے، اینٹی کرپشن افسران نے ادارے کی نیک نامی کی خاطر شروع کے دنوں میں عوامی شکایات پر سخت رویہ اپنا کر کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا، اس دوران خاص طور پر ترقیاتی منصوبوں میں گھپلے کرنے والے کمیشن مافیا کے خلاف درجنوں مقدمات کا اندراج کیا گیا اور ان کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔

لیکن بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ کرپشن نے سرکاری اداروں میں پنجے گاڑھ لئے اور اینٹی کرپشن افسران نے بھی تفتیش کا طریقہ تبدیل کرکے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا شروع کر دی، جن افسران کے خلاف انکوائریاں یا مقدمات کی تفتیش زیر غور تھی، ان کے ساتھ ساز باز کرنا شروع کر دی، جس کا نقصان یہ ہوا کہ کرپشن کے خلاف کارروائی صرف درجہ چہارم کے ملازمین تک محدود ہو گئی، بڑے مگر مچھوں پر اینٹی کرپشن نے ہاتھ ڈالنا کم کر دیا، کمزور اور ناقص تفتیش سے ملزمان کو فائدہ پہنچنا شروع ہو گیا۔ اینٹی کرپشن کی فرضی کارروائیوں سے فائدہ اٹھا کر بلیک میلرز نے اینٹی کرپشن کے تفتیش افسروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ریڈ کروانے شروع کر دیئے، اس طرح سرکاری ملازمین سے لاکھوں روپے وصول کرکے اپنے بیان سے منحرف ہونا ایک معمول بنا لیا گیا۔

ایک سال قبل ہائی وے ڈیپارٹمنٹ، ٹی ایم ایز، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ، لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ، محکمہ انہار، محکمہ پولیس اور محکمہ صحت کے افسران کے خلاف زیر سماعت کروڑوں روپے کی 20 سے زائد انکوائریاں بند کر دی گئیں، میڈیا میں خبریں شائع ہونے کے باوجود حکام نے نوٹس نہ لیا، اینٹی کرپشن کورٹ میں کروڑوں روپے کرپشن لے کر 150 مقدمات کو بھی گزشتہ تین ماہ قبل بند کر دیا گیا، جس کے باعث تین سو ملزمان کو فائدہ ہوا۔ اینٹی کرپشن کی سپیشل کورٹ میں متعدد مقدمات سالہا سال سے زیر سماعت تھے، جن کا عدالت نے فیصلہ سنانے کیلئے بار بار سرکاری گواہان کو طلب کیا لیکن بدقسمتی سے کسی بھی آفیسر نے گواہی کے لئے کورٹ آنا پسند نہ کیا، آخر کار اینٹی کرپشن کورٹ کے سابق جج راجہ اخلاق احمد نے سرکاری گواہان کی طلبی کیلئے چیف سیکرٹری پنجاب اور اداروں کے سربراہان کو کیس بند کرنے کی وارننگ دے کر لیٹر جاری کئے تاکہ انہیں عدالت میں پیش کیا جا سکے لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت نے نوٹس نہ لیا اور کسی بھی افسر کو عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا، جس کے باعث کورٹ نے پراسکیوٹر کو گواہان طلب کرنے کا کہا، آخر کار ناکامی کے بعد کرپشن کے زیر سماعت 150 مقدمات کو بغیر کسی فیصلے کے بند کرنا پڑا، 150 مقدمات کی بندش سے تین سو ملزمان کو فائدہ پہنچا اور کروڑوں روپے کی رقم کی ریکوری بھی نہ کروائی جا سکی۔

گزشتہ دنوں اینٹی کرپشن لاہور کی ایک ٹیم نے محکمہ انہار کے افسران کے ساتھ مبینہ طور پر ساز باز کرکے ساڑھے چار کروڑ روپے کی کرپشن کے کیس کو بند کر دیا ہے۔ نارووال کے علاقہ میں تتلہ ڈرین کے منصوبے میں ساڑھے چار کروڑ روپے کی کرپشن کے باعث محکمہ انہار کے چیف انجینئر محبت خان، ایکسیئن ریاض المانی، ایکسیئن محمد طارق، ایس ڈی او ارشاد الحق، ایس ڈی او پرویز احمد اور اوورسیئر لیاقت علی کے خلاف اینٹی کرپشن آفس نارووال میں مقدمہ کا اندراج کیا گیا، اس دوران سابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن رانا عبدالشکور نے تتلہ ڈرین کا خود دورہ کیا اور محکمہ انہار کے موجودہ ایکسیئن کو تحقیقات کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تاہم محکمہ کی جانب سے بھی تتلہ ڈرین کے منصوبے میں تین کروڑ 38 لاکھ روپے کی کرپشن بارے انکشاف کیا گیا، جس پر ملزمان کو قصوروار قرار دے کر ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سے گرفتاری کی اجازت مانگی گئی تو اس دوران ملزم پارٹی کی جانب سے درخواست پر انکوائری کی دوبارہ تفتیش کیلئے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ٹیکنیکل پنجاب کو حکم دے دیا گیا، اس دوران ملزم پارٹی کے ساتھ مبینہ طور پر انکوائری ٹیم نے ساز باز کر لی اور اس طرح مقدمہ کو بند کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

 انکوائری ٹیم کے اس فیصلہ سے کروڑوں روپے کی ریکوری بھی رک گئی اور ملزمان بھی آزاد ہو گئے۔ ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن گوجرانوالہ محمد الیاس گل نے اس بارے انکشاف کیا کہ جس منصوبے میں سرکاری نقصان ہوا ہو وہ مقدمہ بند نہیں ہو سکتا، لیکن جب اعلیٰ افسران کی جانب سے حکم ملا ہے تو وہ کیس کو بند ہی کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری محکموں سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کیلئے اینٹی کرپشن کو اسٹیبلشمنٹ کے بجائے ایک خود مختار محکمہ بنانا ہوگا، اس وقت اینٹی کرپشن میں افسران اور ملازمین کی اہم پوسٹیں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، کم تنخواہیں اور گاڑیوں کی عدم سہولت کے علاوہ دفاتر بھی اپنے نہیں ہیں، سرکل آفیسرز دوسرے محکموں میں فرائض کی ادائیگی کرنے پر مجبور ہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!