چمچماتی کار، آپ کے ذوق کی آئینہ دار

عام استعمال کی چیزوں سے گاڑی چمکائیں


پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کے پاس ذاتی گاڑیاں ہیں۔
دفاتر آنے جانے سے لے کر بہت سے مقاصد کے لیے وہ گاڑی کا استعمال کرتی ہیں۔ صاف ستھری چمچماتی ہوئی گاڑی شخصیت کا تأثر اُبھارتی ہے۔ گاڑی کی ظاہری حالت گاڑی چلانے والی خاتون کا عکس ہوتی ہے۔

مٹی سے اٹی داغ دھبوں سے بھری گاڑی سے اترنے والی خاتون کی شخصیت، لباس اور میک اپ کتنا ہی خوب صورت اور جاذب نظر کیوں نہ ہو لیکن گاڑی کی بُری حالت سے ان کی شخصیت کا تاثر مدھم پڑجاتا ہے۔

فی زمانہ روز مرہ کے مصروف معمولات مثلاً بچوں کو اسکول چھوڑنا، دفترجانا، سودا لینا، شاپنگ کرنا وغیرہ وغیرہ کے دوران اتنا وقت کہاں ملتا ہے کہ گاڑی کو سروس یا کار واش کے لیے چھوڑا جائے۔

بسا اوقات ماہانہ بجٹ بھی اتنی اجازت نہیں دیتا کہ مہنگائی کے اس دور میں یہ خرچا بھی برداشت کیا جائے لیکن دھول، مٹی سے اٹی گاڑی کی صفائی ستھرائی بھی ضروری ہے۔ اگر جیب گاڑی کی سروس کروانے کی اجازت نہ دے رہی ہو یا وقت نہ ہو تو پھر یہ ٹوٹکے اور تراکیب گاڑی پر سے داغ دھبے دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی اور تھوڑی سی محنت سے گاڑی چمک اٹھے گی۔

کھانے کا سوڈا اور برتن دھونے کا محلول:

پاؤ کپ بیکنگ سوڈا، پاؤ کپ برتن دھونے کا محلول ( ڈش واشنگ لکوڈ) ایک گیلن پانی کی بوتل میں ڈال کر پانی بھر لیں۔ ڈھکن بند کرکے اچھی طرح ہلائیں اور رکھ دیں۔ جب کار کو دھونا ہو تو بوتل کو اچھی طرح ہلاکر ایک کپ محلول کو ایک بالٹی میں ڈالیں۔ اس میں تقریباً دو گیلن گرم پانی بھریں۔ اچھی طرح ملا کر استعمال کریں۔ کار دھونے کے لیے گھریلو اجزا سے بہترین محلول تیار ہوگا۔

سرکے سے ونڈ شیلڈ اور وائپر کی صفائی:

پاؤ کپ سرکے کو تین چار گلاس پانی سے بھری بوتل میں ڈال کر ڈھکن بند کریں اور تھوڑا سا ہلاکر گاڑی میں رکھ لیں۔ ونڈ شیلڈ اور کھڑکیوں کو دھونے اور صاف کرنے کے لیے بہترین محلول تیار ہے۔ جب بھی ونڈ شیلڈ پر گرد جمی محسوس ہو یہ محلول اسفنج کی مدد سے ونڈ شیلڈ پر لگائیں اور نرم کپڑے یا کاغذ کے تولیے سے صاف اور خشک کرلیں۔
اگر ونڈ شیلڈ وائپر کے بلیڈز دھول مٹی سے اٹے ہوں تو یہ بجائے صفائی کے شیشے پر بدنما دھبوں کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا ان کی صفائی بھی ازحد ضروری ہے۔ اس کے لیے بھی درج بالا محلول سے صاف کیجیے۔ بلیڈز کو احتیاط سے کھولیں اور سرکے اور پانی کے بنے محلول میں نرم کپڑا یا کاغذی تولیے کو بھگو کر صاف کیجیے۔ پھر خشک کپڑے سے اچھی طرح پونچھ کر بلیڈز کو دوبارہ جگہ پر کردیجیے۔

کولا ڈرنک:


گرد آلود ہواؤں اور بارش سے عموماً ونڈ شیلڈ داغ دھبوں سے بھر جاتی ہے جس کے باعث ڈرائیونگ میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ ونڈ شیلڈ پر ایک کولا ڈرنک بہادیں۔ البتہ اس سے پہلے ایک تولیہ ونڈ شیلڈ کے نیچے بچھادیں۔ تاکہ گاڑی کا رنگ یا پینٹ خراب نہ ہو۔ کچھ دیر بعد پانی سے دھولیں یا گیلے کپڑے سے صاف کرکے، خشک نرم کپڑے سے صاف کرلیں۔ شیشہ ؍ ونڈ شیلڈ چمک اٹھے گی۔

شیمپو:


گاڑی کی بیرونی سطح پر موجود گریس کے یا دیگر داغ دھبے صاف کرنے کے لیے شیمپو کا استعمال بہترین ہے۔ خصوصاً بچوں کے لیے استعمال ہونے والا بے بی شیمپو زیادہ بہتر ہے، کیوں کہ اس میں موجود اجزا گاڑی کے پینٹ کو خراب نہیں کرتے۔ ایک بالٹی میں تقریباً دو گیلن پانی اور دو چائے کے چمچے شیمپو ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔ پھر نرم کپڑے کو اس محلول میں بھگو کر داغ دھبوں پر رگڑیں۔ احتیاط رکھیں تاکہ گاڑی کا پینٹ خراب نہ ہو۔ زیادہ شیمپو کے استعمال سے گریز کیجیے۔ بصورت دیگر گاڑی کا پینٹ خراب ہونے کا اندیشہ رہے گا۔

ٹوتھ پیسٹ:

گاڑی کے اندر چمڑے کی نشستوں پر لگے داغ دھبوں کو ٹوتھ پیسٹ سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ متاثرہ حصے پر ٹوتھ پیسٹ لگا کر احتیاط سے رگڑیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ پہلے کسی چھوٹے سے داغ پر ٹوتھ پیسٹ لگا کر آزمالیں کہ داغ صاف کرنے کے ساتھ کہیں چمڑے کا رنگ تو خراب نہیں ہو رہا۔ 

لیموں کا عرق:

ایک پیالی میں لیموں کا رس لیں اور لیموں کے رس کی مقدار سے دگنا زیتون کا تیل اچھی طرح ملاکر کسی نرم کپڑے کی مدد سے یہ محلول ڈیش بورڈ پر رگڑیں۔ اس سے ڈیش بورڈ چمک اٹھے گا۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!