قرآن کے مقابلے میں اجتہاد کی کیا گنجائش ہے

تیونس میں وراثت میں مردو خواتین میں مساوات کی بحث کا جواب

مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر نے واضح کیا ہے کہ قرآن کریم کے واضح احکامات کے مقابلے میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن کے واضح احکامات اور شروعی امور کے اظہار میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی جائے گی۔

ایک بیان میں جامعہ الازھر نے تیونس میں مرد اور عورت کے میراث میں مساوات کے حوالے سے جاری بحث کا جواب دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قرآن پاک میں میراث کے اصول واضح کردیے گئے ہیں۔ میراث کا مسئلہ مسلمانوں کے عقاید کا حصہ ہے۔ مسلمان ایسا کوئی اجتہاد قبول نہیں کرسکتے جس کے مقابلے میں قرآن کریم کی واضح اور صاف تعلیمات اور احکامات موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ہزارسال سے زاید عرصے سے عالم اسلام اور عرب دنیا میں اجتہاد کیے جاتے رہے ہیں۔ مگر اسلام کے شرعی حقائق کو تبدیل کرنے کی جرات کسی نے نہیں کی۔ جامعہ الازھر اسلام کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے احکام الہٰی کے اظہار میں کسی کمزوری اور کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

خیال رہے کہ افریقی عرب ملک تیونس میں کچھ عرصے سے میراث کی متنازع بحث جاری ہے۔ اس بحث میں ایک طبقے نے دعویٰ کیا ہے کہ وراثت میں مرد اور عورت برابر کے حصہ دار ہیں۔ اس دعوے کی حمایت کرنے والوں میں تیونسی صدر الباجی قاید السبسی اور ملک کے مفتی اعظم عثمان بطیخ پیش پیش ہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!