خانہ بدوشوں کی بڑی عید

خانہ بدوش گوشت محفوظ کرنے کے نادر طریقے ایجاد کر چکے

عیدالاضحی گزرنے کے بعد اکثر وطن عزیز کے اکثر لوگ قربانی کا گوشت فریج اور ڈیپ فریزروں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں جو مہینوں محفوظ رہتا ہے۔ایسے افراد جو گوشت اپنے گھروں میں ذخیرہ نہیں کر پاتے، وہ امانتاً اسے اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے ہاں رکھوا دیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت اسے استعمال میں لایا جا سکے۔

ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو فریزر اور فریج کی سہولت نہ ہوتے ہوئے بھی کئی ماہ تک گوشت خراب ہونے سے بچائے رکھتا ہے۔خانہ بدوش، جھگیوں والے یا چنگڑ کہلانے والے یہ افراد گوشت محفوظ کرنے کے لیے نسل در نسل چلا آ رہا خاندانی طریقہ کو استعمال میں لاتے ہیں۔

گاؤں کی نسبت شہروں میں قربانی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے خانہ بدوشوں کے خاندان ہر بکرا عید پر شہری علاقوں کا رخ کر لیتے ہیں۔عید کے روز سبھی لوگ ہم شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر گوشت اکٹھا کرتے ہیں ۔عام طور پر خاندان کا ہر فرد انفرادی طور پر گھر گھر جا کر گوشت کا تقاضا کرتا ہے ۔یوں تھوڑا تھوڑا کر کے ان کے پاس منوں گوشت فی خیمہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔

زیادہ مقدار میں موجود تازہ گوشت کو وہ ایک ساتھ پکا کر نہیں کھا سکتے اور نہ ہی ان کے پاس بجلی یا فریج کی سہولت میسر ہے۔ اس لیے وہ اسے روایتی طریقے سے محفوظ کر لیتے ہیں تاکہ گوشت کو سارا سال استعمال میں لایا جا سکے۔ایک خانہ بدوش،اکبر بتاتا ہے کہ سب سے پہلے اکٹھا کیے جانے والے گوشت کو ایک جگہ رکھ کر اسے دو حصوں …ہڈی والے گوشت اور بغیر ہڈی کے گول بوٹی والے گوشت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس کے بعد انھیں الگ الگ ابال کر دھوپ میں سْکھایا جاتا ہے۔پھر ان پر نمک لگا دیا جاتا ہے تاکہ گوشت بالکل خشک ہو جائے۔

اکبر کہتا ہے کہ ہڈی والے گوشت کو وہ سوکھنے کے لیے چارپائیوں پر ڈال دیتے ہیں ۔جبکہ بغیر ہڈی والے گوشت کو دھاگے میں پرو کر تاروں پر ڈال دیتے ہیں جو چھ سے سات دن میں خشک ہو کر مکمل طور پر محفوظ ہو جاتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ خشک گوشت کو بڑے تھیلوں میں ڈال لیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے وہ سارا سال جب چاہیں گوشت کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔

پچپن سالہ خاتون،نگہت بی بی بتاتی ہے کہ زیادہ تر خانہ بدوش بھیک مانگ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس لیے وہ خود گوشت خرید کر نہیں کھا سکتے۔اس کے بقول بڑی عید سال میں ایک مرتبہ آتی ہے اور ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس دوران زیادہ سے زیادہ گوشت ذخیرہ کر لیں تاکہ اگلی عید تک اسی پرانے گوشت کو استعمال میں لایا جا سکے۔نگہت نے مذید بتایا کہ وہ صرف عید کے تین دن تازہ گوشت کھاتی ہے اور بقیہ سارا سال یہی سوکھا گوشت کھا کر گزارا کرتی ہے۔اس نے دعوی کیا کہ تازہ گوشت کا ذائقہ خشک سے بہت بہتر ہوتا ہے۔ لیکن وہ گوشت کو سکھانے پر مجبور ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں کریں گی تو ایک دو دن میں ہی سارا گوشت خراب ہو جائے گا۔

پینتالیس سالہ صفدر عباس کہتا ہے کہ خانہ بدوشوں کا ایک گھرانا عید کے تین دن میں پچاس کلو تک گوشت جمع کر لیتا ہے ۔اسے ابالنے اور خشک کرنے کے بعد محفوظ کر لیا جاتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ وہ خود دکان سے تازہ گوشت نہیں خرید سکتا، اس لیے وہ اہل خانہ کے ساتھ ہفتے میں ایک مرتبہ محفوظ کیا گیا گوشت پکا کر کھاتا ہے۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!