بچوں کو خود سے باندھنے والی مخلوق

مخلوق کسی بھی جاندار کی نسل سے براہ راست منسلک نہیں

پچھلے دنوں سائنسدانوں نے 43 کروڑ سال پرانی ایک ایسی بغیر آنکھ اور بہت سی ٹانگیں رکھنے والی سمندری مخلوق کا پتا چلایا ہے جو اپنے بچوں کو پتنگ کی طرح ساتھ باندھے لیے پھرتی تھی۔

یہ ایک ایسا حیرت انگیز انکشاف ہے جو جانداروں کی دنیا میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔سائنسدانوں نے ماضی کے اس جاندار کو ’کائٹ رنر‘ کا نام دیا ہے۔اس جاندار کے ساتھ دس کیپسولز منسلک ہوتے تھے ۔وہ دراصل اسی کے بچے ہوتے جونشوونما کے مختلف مدارج سے گذرتے تھے۔

پی این اے ایس نامی جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق بہت سی ٹانگوں اور بغیر آنکھ والی ایک سینٹی میٹر کی یہ مخلوق کسی بھی جاندار کی نسل سے براہ راست منسلک نہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں قدیم علم حیاتیات کے ماہر ڈیوڈ لیگ کا کہنا ہے’’آج ایسا کوئی جاندار نہیں جو اس سے متعلق ہو۔لہذا اسے ہم بنیادی نسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اس خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو پیدا ہوا اور پھر جدید گروپ کے تیار ہونے سے پہلے ارتقائی مدارج طے کرکے بدل گیا ۔‘‘

کائٹ رنر نامی اس عجیب کیڑے کا فوسل ماہرین کو برطانوی علاقے، ہیئرفورڈشائر سے ملا تھا ۔ پھر آکسفورڈ لا کر اس کو کمپیوٹرائز کیا گیا۔اس کام میں نمونے کو تہ در تہ دیکھا جاتا ہے اور ہر ایک قاش کی تصویر لی جاتی ہے تاکہ اس کی ایک تھری ڈی شبیہ تیار ہو سکے۔اس مرحلے کے بعد انھوں نے اپنے کمپیوٹر سکرین پر ایسی مخلوق دیکھی جو جو اپنے بچوں کو خود سے باندھ کر چلتی تھی۔آج کی دنیا میں ایسی کوئی بھی مخلوق نہیں پائی جاتی

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!