گڈ بائے 2015، ویلکم 2016

2016 کے پرتپاک اسپتال کے لئے دنیا بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے


2015 کو الوداع کہنے اور 2016 کے پرتپاک اسپتال کے لئے دنیا بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے  کئی ملکوں میں سال نو کا آغاz ہوچکا ہے جب کہ کئی ممالک میں اس کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ 

دنیا میں 2016 کا آغاز سب سے پہلے نیوزی لینڈ اور فجی میں شروع ہوا، نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کے اسکائی ٹاور پرشاندار اور آتشبازی سے 2016 کا استقبال کیا گیا اور اسکائی ٹاور پر کاؤنٹ ڈاؤن صفر ہوتے ہی رنگ و نور کی بہار ہوگئی اور اسکائی ٹاور جھلملاتی روشنیوں سے کھل اٹھا جب کہ عوام کی جانب سے بھرپورجذبات کا اظہار کرتے ہوئے نئے سال کا استقبال کیا گیا۔ 
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ہاربر برج پر اب تک کی سب سے بڑی آتش بازی کی گئی،  2016 کے آغاز کو یاد گار بنانے کے لیے سڈنی میں ماضی کی نسبت اضافی طور پر ڈھائی ہزار پٹاخوں کا ستعمال کیا گیا۔ اس مرتبہ شہری انتظامیہ نے نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے 70 لاکھ آسٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جب کہ انتہائی دلفریب آتش بازی کا سلسلہ بیس منٹ تک جاری رہا۔ اسی طرح ٹوکیو، بیجنگ، کوالالمپور، جکارتہ، ہانگ کانگ اور دیگر شہروں میں بھی بھر پور انداز میں سال نو کی خوشیاں منائی جارہی ہیں۔  
سال بھر مسائل اور مایوسیوں کا سامنا کرنے والی پاکستانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی نئے سال سے بہتری کی امیدیں لگا لی ہیں۔ نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں قریب ان کے آنے کے دن آ رہے ہیں امید، مایوسی، حسرت و یاس اور خوشی کے شادیانے، بلاشبہ 2015ء کے دامن میں یہ سب کچھ موجود تھا۔ رخصت ہونے والے برس نے کہیں غم کے فسانے رقم کئے تو کسی کیلئے کامیابی کی نوید لایا، کسی کو مسائل میں گھرا چھوڑ گیا تو کسی کو خوشیوں سے مالا مال کر گیا، لوگوں کی بڑی تعداد اپنی تمام تر محرومیوں کے باوجود دیگر اقوام کی طرح سال نو کا پرتپاک استقبال کرنے کے آرزو مند تھے لیکن کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سمیت تمام شہروں میں اس پر اعلانیہ پابندیاں کردی گئیں۔ 

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!