2015 : پاکستانی کرکٹ کا اچھا سال

2015 میں پاکستانی ٹیسٹ ٹیم ناقابل شکست رہی

2015 میں پاکستانی ٹیسٹ ٹیم ناقابل شکست رہی تاہم ایک روزہ میچوں میں ناقابل اعتبار بیٹنگ اور پھر سے سر اٹھانے والی پلیئر پاور نے ان فتوحات کو گہنا دیا۔

سال کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا، جب تاریخی پالیکلے ٹیسٹ میں یونس خان اور شان مسعود نے طلسماتی سینچریاں بنا کر اسے تین سو ستتر کے ناقابل یقین ہدف تک رسائی دلائی۔ ٹیسٹ کرکٹ کی چوتھی اننگزمیں پاکستان کا یہ سب سے بڑا اور ایشیا میں دوسرا بڑا اسکور تھا۔

پاکستان نے سری لنکا کو نو سال بعد دو ایک سے ہرانے کے علاوہ بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے دانت کھٹے کر کے عالمی رینکنگ میں دوہزار چھ کے بعد پہلی بار دوسرے نمبر پراپنا نام لکھوایا۔ یونس خان آٹھ میچوں میں سات سو نواسی رنز کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب بیٹسمین اور یاسر شاہ سات میچوں میں انچاس وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے۔

یونس نے انگلینڈ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں جاوید میانداد کا پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ آٹھ ہزار آٹھ سو بتیس رنز کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

ایک روزہ میچوں میں یہ سال بھی اپنے پیچھے پیٹنے کو ایک لکیر چھوڑے جا رہا ہے۔ ورلڈ کپ میں وہاب ریاض کا تیز ترین اسپیل بھی ایڈیلیڈ اوول کوارٹر فائنل میں گرین شرٹس کی توقعات کے شیش محل کو ٹوٹنے سے نہ بچا سکا۔ اس کے تین ہفتے بعد ڈھاکہ میں میزبان بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کو پہلی بار کلین سویپ کی سُبکی اٹھانا پڑی۔

نئے کپتان اظہر علی نے بعد ازاں سری لنکا اور زمبابوے کے خلاف پاکستان کو کامیابیاں دلوائیں لیکن انگلینڈ کے ہاتھوں خلیج میں ہوم سیریز کی شکست نے پھر پاکستانی بیٹنگ کو آئینہ دکھا دیا۔
اسی سال مصباح الحق اور شاہد آفریدی نے ون ڈے کرکٹ کو الوداع کہا۔ دونوں کی پیروی یونس خان نے بھی کی لیکن ون ڈے کھیلنے پر یونس کے پہلےغیر ضروری اصرار اور پھر اچانک ریٹائرمنٹ کے فیصلے نے پاکستان کرکٹ میں پھر سے پلیئر پاور کو ہوا دی۔
ا
سی سال اسپاٹ فکسنگ میں ملوث محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف پرکرکٹ کھیلنے کی پابندی ہٹا لی گئی لیکن محمد حفیظ اور اظہرعلی کی جانب سے محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کی کھلم کھلا مخالفت اور یاسر شاہ پر ممنوعہ د وا کا الزام پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے سال کا آخری بڑا صدمہ ٹھہرا۔
اس برس بھی پاک بھارت کرکٹ کی بحالی بھارتی کرکٹ بورڈ کی سیاست اور وعدوں کی نذر ہو گئی تاہم زمبابوے کی مئی میں لاہور آمد نے پاکستان پر بین الاقوامی کرکٹ کے بند دروازے کھول دیے۔

سال کے آخر میں اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کی واپسی پر اٹھنے والے طوفان اور لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ڈوپنگ مقدمے نے پی سی بی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ محمد حفیظ کے ساتھ مل کر علم بغاوت بلند کرنے والے کپتان اظہر علی نے جمعہ کو متنازع فاسٹ باؤلر محمد عامر کے ساتھ کھیلنے کی حامی بھر لی تھی لیکن پیر کو مبینہ طور پر خاندانی دباؤ پر پہلے قیادت سے دستکش ہوئے اور پھر چیئرمین پی سی بی کی دوسری مداخلت پر اپنا استعفی واپس لے لیا۔

دوسری طرف ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد لیگ اسپنر یاسر شاہ کی آئی سی سی کے ہاتھوں معطلّی نے بھی پی سی بی کے درد سر میں اضافہ کیا ہے۔ یاسر شاہ کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے اس سال سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر نے دبئی میں غلطی سے اپنی بیگم کی فشار خون کی دوا نگل لی تھی، جو ان کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کا باعث بنی۔ یاسر کے پاس اگلے چھ روز میں اپنے سیمپل بی ٹیسٹ کرانے کی گنجائش موجود ہے لیکن پی سی بی کے ڈاکٹرز اور وکلاء اس معاملے کا مخلتف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس جرم میں یاسر شاہ کو ایک سے چار سال تک پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اپنے قدموں پر کھڑی پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ہو گا۔

2016 میں پاکستانی امپائر علیم ڈار کا شمار دنیا کے ان تین امپائروں میں ہوگا جنھوں نے سو یا اس سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دیے ہوں۔ علیم ڈار اس وقت جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے مابین جاری سیریز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ اب تک 99 ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کر چکے ہیں اور ہفتے کے روز جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے مابین ٹیسٹ میں اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کریں گے۔ دنیا میں اسٹیو بکنر اور روڈی کرٹزن ہی2  ایسے امپائر ہیں جنھوں نے 100 سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض دیے ہیں۔

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!