2015 : پولیو کے خلاف جنگ میں پاکستان سرخرو

2015 میں فاٹا سے 16 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے


2014 کے اختتام تک پاکستان ، افغانستان اور نائجیریا کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں پولیو کا خاتمہ کردیا گیا لیکن پاکستان میں پولیو کے بیشتر نئے کیسز سامنے آئے تھے لیکن 2015 میں اس کے برعکس نتائج نے دنیا بھر کو حیران کر دیا ہے۔

پاکستان میں 2014 میں پولیو کیسز کی بڑی تعداد نے دنیا کو پریشان کردیا  اُس سال صرف فاٹا  سے 179 بچوں میں اس کی تصدیق ہوئی، اِس کے مقابلے میں 2015 میں فاٹا سے صرف 16 بچوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے شعبہٴ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اختیار خان کے مطابق قبائلی علاقوں میں جاری ضرب عضب آپریشن اور انسداد پولیو مہم کی ٹیموں کی کوششوں کی وجہ سے پولیو کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ ان کے بقول’گزشتہ سال کے مقابلے میں اس 2015ء میں فاٹا میں پولیو کیسز میں قریب 96% کمی آئی ہے، اس کی پہلی وجہ قبائلی علاقوں میں بھرپور پولیو مہم اور دوسری بڑی وجہ وہاں پر فوج کے کامیاب آپریشن تھے، جن کی وجہ سے ہماری ٹیمیں ان علاقوں میں بھی پہنچ گئیں، جہاں تک پہلے رسائی ممکن نہیں تھی۔ ہماری یہ کوشش ہو گی کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے ساتھ ساتھ  2016  میں افعانستان کے سرحدی علاقوں تک اس مہم کو پھیلائیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو اس وائرس سے چھٹکارا دلا سکیں۔‘‘

تبصرے

  • اس پوسٹ پر تبصرے نہیں ہیں!