جون ایلیا کی شاعری

  • وہی دیوار ہے اپنی، وہی در ہے درپیش

  • کفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہے

  • نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

  • اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے

  • اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں

  • اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوا

  • اپنا خاکہ لگتا ہوں

  • اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

  • دل کا دیار خواب میں دور تلک گزر رہا

  • باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئینگے

  • شہرِ فراق یار سے آئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جون ایلیا

  • بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا