امجد اسلام امجد کی شاعری

  • ذراسی بات

  • اب جو دیکھیں تو کوئی ایسی بڑی بات نہ تھی

  • جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

  • یہ جو ریگ دشت فراق ہے

  • ھم لوگ نہ تھے ایسے

  • سب تمہارے لئے

  • اشکوں میں جھلملاتا ہوا کس کا عکس ہے

  • آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے

  • حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

  • پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا

  • دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے

  • یہ گرد بادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن