نوشی گیلانی کی شاعری

  • وہ بات بات میں اتنا بدلتاجاتا ہے

  • بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا

  • اِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہے

  • دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے

  • کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

  • ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے

  • وہ تیرگی تھی لفظوں کو راستہ نہ ملا

  • راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

  • لاکھ ضبطِ خواہش کے

  • بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں

  • یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو

  • پُوچھ لو پھُول سے کیا کرتی ہے