اسداللہ خان غالب کی شاعری

  • دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے

  • وہ فراق اور وہ وصال کہاں

  • یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

  • تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

  • تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا

  • شوق، ہرنگ رقیب سرو ساماں نکلا

  • نکتہ چین ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

  • نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ ہوتا تو خدا ہوتا

  • مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے

  • منظور ہے گزارش احوال واقعی

  • شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا

  • آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک