گلزار کی شاعری

  • شام سے آنکھوں میں نمی سی ہے

  • اک پرانا موسم لوٹا دیا بھر پروائی بھی

  • گلوں کو سننا ذرا تم ۔ ۔ ۔ گلزار

  • ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

  • چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

  • یہ آئینہ بولنے لگا ہے

  • آئینہ

  • ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا

  • بے سبب مسکرا رہا ہے چاند