جگرمرادآبادی کی شاعری

  • تم اس دل وحشی کی وفاؤں پہ جانا

  • تجھی سے ابتدا ہے، توہی اک دن انتہا ہوگا

  • اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے

  • علاجِ کاوشِ غم خاک چارہ جُو کرتے

  • ستمِ کامیاب نے مارا

  • گر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے

  • نہ راہزن نہ کسی رہنما نے لوٹ لیا

  • یہ ترا جمالِ کاکُل یہ شباب کا زمانہ

  • بے کیف ہے دل اور جیے جا رہا ہوں میں

  • عشق کو بے نقاب ہونا تھا

  • یہ ترا جمالِ کاکُل یہ شباب کا زمانہ