عرفان صدیقی کی شاعری

  • بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہوگیا ہے

  • جب بھی کی ہم رہیِ بادِ بہاری ہم نے

  • شکستہ پیرہنوں میں بھی رنگ سا کچھ ہے

  • خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو

  • جب بھی کی ہم رہیِ بادِ بہاری ہم نے

  • شکستہ پیرہنوں میں بھی رنگ سا کچھ ہے

  • خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو

  • وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے

  • اس تکلف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ

  • سرابِ دشت تجھے آزمانے والا کون

  • شبِ درمیان

  • رکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا