ساغرصدیقی کی شاعری

  • ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

  • اے دلِ بے قرار چپ ہو جا

  • اے تغیر زمانہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساغر صدیقی

  • ﻭﮦ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﻮ

  • جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں

  • پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

  • غم کے مجرم خوشی کے مجرم ہیں

  • میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا