فراق گورکھپوری کی شاعری

  • یہ سرمئی فضاؤں کی کچھ کنمناہٹیں

  • یہ مانا زندگی ہے چار دن کی

  • یہ جو قول و قرار ہے، کیا ہے

  • تُمہی سے بولے ھيں۔ ۔ ۔ فراق گھورکھپوری

  • دیارِ غیر میں سوزِ وطن کی آنچ نہ پوچھ

  • آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں