احمد مشتاق کی شاعری

  • یہ کون خواب میں چھو کر چلاگیا مرے لب

  • ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

  • یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

  • کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی

  • کہاں گونج دل ناتواں میں رہتی ہے

  • دھڑکتی رہتی ہے دل میں طلب کوئی نہ کوئی

  • یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

  • خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

  • خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

  • کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

  • دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتا

  • دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتا