میر تقی میر کی شاعری

  • وہ جو پی کر شراب نکلے گا

  • اس کا خرام دیکھ کے جایانہ جائے گا

  • پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانا ہے

  • رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں

  • عشق بن یہ ادب نہیں آتا . . . .میر تقی میر

  • اس عہد میں الہیٰ محبت کو کیا ہوا

  • اب نہپیں سینے میں میرے جائے داغ

  • اب جو ایک حسرت جوانی ہے

  • و کیے کمہلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے

  • آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں

  • چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا

  • دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش