شکیب جلالی کی شاعری

  • یادیں ہیں اپنے شہر کی، اہل سفر کے ساتھ

  • وہ دوریوں کا رہ آب پر نشان کھلا

  • آگ کے درمیان سے نکلا

  • دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیا

  • وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوا