قتیل شفائی کی شاعری

  • پریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائو

  • پہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیے

  • مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم

  • جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے

  • کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح

  • جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے

  • مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم

  • پہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیے

  • گرمی حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

  • گرمی حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

  • ہجر کی پہلی شام کے سائے دور اُفق تک چھائے تھے

  • اک اک پتھر جوڑ کے میں نے جو دیوار بنائی تھی