افتخار عارف کی شاعری

  • رات کے دوسرے کنارے پر

  • خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ

  • زمانہ خُوش کہاں ہے سب سے بے نیاز کر کے بھی

  • یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں، وہیں کے نہیں

  • بِکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشہ ختم ہو گا

  • غیروں سے دادِ جور و جفا لی گئی تو کیا

  • شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

  • زمانہ خُوش کہاں ہے سب سے بے نیاز کر کے بھی

  • خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ

  • غیروں سے دادِ جور و جفا لی گئی تو کیا

  • شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

  • عذاب یہ بھی کسی اورپر نہیں آیا