سلیم کوثر کی شاعری

  • یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

  • میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

  • یوں تو کہنے کو سبھی اپنے تئیں زندہ ہیں

  • تم نے سچ بولنے کی جرات کی

  • سفر کی ابتدا ہوئی تیرا دھیان آگیا

  • تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہوسکتا

  • سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آگیا

  • اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

  • سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جارہا ہے

  • ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

  • ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

  • دست دعا کو کاسہ سائل سمجھتے ہو