ساحر لدھیانوی کی شاعری

  • میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

  • تنگ آچکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

  • تنگ آ چکے ہیں کشمکش زنگی سے ہم

  • محبت ترک کی میں نے گریبان سی لیا میں نے

  • تم چلی جائو گی، پرچھائیاں رہ جائیں گی

  • یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے

  • تنگ آ چکے ہیں کشمکشِ زندگی سےہم

  • عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اُسے بازار دیا

  • کبھی کبھی مرے دل میں‌ یہ خیال آتا ہے

  • خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے

  • تنگ آچکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم