افضال احمد سید کی شاعری

  • زوالِ شب میں کسی کی صدا نکل آئے

  • زندہ رہنا تھا سو جاں نذرِ اجل کر آیا

  • تم ہمیں ایک دن دشت میں چھوڑ کر چل دیے تھے تمھیں کیا خبر یا اخی

  • حلقۂ بے طلباں رنجِ گراں باری کیا

  • چھت پہ مہتاب نکلتا ہوا سرگوشی کا

  • کہیں خیام لگیں قریۂ وصال بھی آئے

  • بانوئے شہر سے کہنا کہ ملاقات کرے

  • اس سے بچھڑ کے بابِ ہنر بند کر دیا

  • بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

  • جہانِ گم شدگاں کے سفر پہ راضی ہوں

  • تشنہ رکھا ہے نہ سرشار کیا ہے اُس نے

  • اس نے کیا دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا