حبیب جالب کی شاعری

  • یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

  • تو رنگ ہے ، غبار ہیں تیری گلی کے لوگ

  • یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں

  • اس دیس کا رنگ انوکھا تھا اس دیس کی بات نرالی تھی

  • ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

  • ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

  • نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

  • فرنگی کا جو میں دربان ہوتا

  • اور سب بھول گۓ حرف صداقت لکھنا

  • عشق میں نام کر گۓ ہوں گے

  • تو کہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی

  • دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا