مومن خان مومن کی شاعری

  • اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

  • اس وسعت کلام سے ہی تنگ آگیا

  • ہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا

  • اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

  • دیدہ حیراں نے تماشا کیا

  • سودا تھا بلائے جوش پررات

  • ہوئی تاثیر آہ و زاری کی