کیفی اعظمی کی شاعری

  • کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ

  • بے کسی پر ظلم لا محدود ہے

  • تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

  • میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا

  • ہاتھ آ کرلگا گیا کوئی

  • اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے

  • کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ

  • وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد

  • آج سوچا تو آنسو بھر آئے

  • کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ

  • پتھر کے خدا وہاں بھی پائے

  • سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے