شعراء کی فہرست

عدیم ہاشمی

معراج فیض آبادی

الطاف حسین حالی

مجروح سلطانپوری

کیفی اعظمی

تنویر انجم

مینا کماری

بشریٰ اعجاز

فرحت عباس شاہ

اختر شیرانی

منظر بھوپالی

امیر مینائی

محسن بھوپالی

دلاور فگار

مومن خان مومن

ن م راشد

شفیق خلش

وصی شاہ

حفیظ جالندھری

اکبر الہ آبادی

افضال احمد سید

شکیل بدایونی

ندا فاضلی

شاہد افضل

ضمیر جعفری

ساحر لدھیانوی

سلیم کوثر

راحت اندوری

ارشاد قمر

افتخار نسیم

افتخار عارف

حمایت علی شاعر

اعتبار ساجد

عطا الحق قاسمی

سید ضمیر جعفری

قتیل شفائی

روبینہ نازلی

ریحانہ قمر

حمیدہ شاہین

علامہ محمد اقبال

تاجدار عادل

الماس شبی

احمد راہی

شہزاد احمد

شکیب جلالی

میر تقی میر

فراق گورکھپوری

کشور ناہید

محسن نقوی

حرا رانا

ابن انشا

ایوب خاور

ادا جعفری

ساغرنظامی

ساغرصدیقی

داغ دہلوی

عرفان صدیقی

پیرزادہ قاسم

میرا جی

خواجہ میر درد

جگرمرادآبادی

جاوید اختر

انور مسعود

منیر نیازی

گلزار

ثمینہ راجہ

جوش ملیح آبادی

عبیداللہ علیم

شان الحق حقی

راغب مرادآبادی

پروین شاکر

نوشی گیلانی

امجد اسلام امجد

بہادرشاہ ظفر

انور شعور

جون ایلیا

بشیر بدر

ناصر کاظمی

حبیب جالب

فیض احمد فیض

احمد ندیم قاسمی

احمد مشتاق

امیر خسرو

اسداللہ خان غالب

احمد فراز

آج کا شعر

 

خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے

بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے

مہر و ماہ و انجام کو بجھا کیوں نہیں دیتے

انتخاب : احمد شفیع

 

آج کی غزل

 

دل کا رونا ٹھیک نہیں ہے، منہ کو کلیجہ آنے دو 
تھمتے ہی تھمتے اشک تھمیں گے، ناصح کو سمجھانے دو 
کہتے ہی کہتے حال کہیں گے، ایسی تمہیں کیا جلدی ہے 
دل کو ٹھکانے ہونے دو اور آپ میں ہم کو آنے دو 
بزم طرب میں دیکھ کے مجھ کو پھیر لیں آنکھیں ساقی نے 
میرے لئے تھے زہر ہلاہل ، اس کے بھرے پیمانے دو 
خود سے گریباں پھٹتے تھے اکثر ، چاک ہوا میں اڑتے تھے 
اب کے جنوں کا جوش نہیں ہے ، آئی بہار تو آنے دو 
یاد دل گم گشتہ میں میں ٹھنڈی آہیں بھرتا تھا 
ہنس کے ستمگر کہتا کیا ہے ، بات ہی کیا ہے جانے دو 
دل کے اثر کو لوٹ لیا ہے شوخ نگہہ اک کافر نے 
کوئی نہ اس کو رونے سے روکو ، آگ لگی ہے بجھانے دو

اثر لکھنوی

 

 

پھر ہجر و فراق کی گھڑی ہے
عمرِ غمِ آرزو بڑی ہے
پلکوں پہ مچل رہے ہیں انجم
کس چاند سے آنکھ جا لڑی ہے
آ جاؤ کہ ایک بار ہنس لیں
"رونے کو تو زندگی پڑی ہے"

یہ ظُلمتِ شب، یہ جوشِ گریہ
برسات کی رات کی جھڑی ہے
جنگل پہ لپک رہے ہیں شُعلے
طاؤس کو رقص کی پڑی ہے
نیّر کو سلامِ غم مُبارک
منزل مگر عشق کی کڑی ہے

حکیم نیر واسطی

 

 

ہرچند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہیے
ساقی سے ملے آنکھ تو پھر ہوش میں رہیے
کچھ اس کے تصوّر میں وہ راحت ہے کہ برسوں
بیٹھے یونہی اس وادیٔ گُل پوش میں رہیے
اک سادہ تبسّم میں وہ جادو ہے کہ پہروں
ڈوبے ہوئے اک نغمۂ خاموش میں رہیے
ہوتی ہے یہاں قدر کسے دیدہ وری کی
آنکھوں کی طرح اپنے ہی آغوش میں رہیے
ٹھہرائی ہے اب حالِ غمِ دل نے یہ صورت
مستی کی طرح دیدۂ مے نوش میں رہیے
ہمّت نے چلن اب یہ نکالا ہے کہ چبھ کر
کانٹے کی طرح پائے طلب کوش میں رہیے
آسودہ دلی راس نہیں عرضِ سُخن کو
ہے شرط کہ دریا کی طرح جوش میں رہیے
ہستی میں وہ حالت ہے دل و جاں کی کہ جیسے
جا کر کسی مینارۂ خاموش میں رہیے
کیوں دیکھیے خونابہ فشانی کو کسی کی
آرائشِ رخسار و لب و گوش میں رہیے
یا ربط خدایانِ جفا کیش سے رکھیے
یا حلقۂ یارانِ وفا کوش میں رہیے
حقّی وہی اب پھر غمِ ایّام کا دکھڑا
یہ محفلِ رنداں ہے ذرا ہوش میں رہیے

شان الحق حقی

 

-->