دست دعا کو کاسہ سائل سمجھتے ہو

دست دعا کو کاسہ سائل سمجھتے ہو

تم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہو

سینے پہ ہاتھ رکھ کے بتاؤ مجھے کہ تم

جو کچھ دھڑک رہا ہےاسے دل سمجھتے ہو

ہر شے کو تم نے فرض کیا  اور اس کے بعد

سائے کو اپنا مد مقابل سمجھتے ہو

دریا تمہیں سراب دکھائی دیا اور اب

گرد و غبار راہ کو منزل سمجھتے ہو

خوش فہمیوں کی حد ہے کہ پانی میں ریت پر

جو بھی جگہ ملے اسے  ساحل سمجھتے ہو

تنہائی جلوہ گاہ تحیر ہے اور تم

ویرانیوں کے رقص کو محفل سمجھتے ہو

جس نے تمہاری نیند پہ پہرے بٹھا دئے

اپنی طرف سے تم اسے غافل سمجھتے ہو