سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں

سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں

سفید بال کہاں اپنے سر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے فیس ہے کچھ اس سے بات کرنے کی

یہ فیس کیا ہے ابھی بات کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ سیہ فام مہ جبینوں کو

لگا کے دھوپ میں چشمے نظر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جیب میں مفلس بھی مال رکھتے ہیں

سو مفلسوں کی بھی جیبیں کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے شوق ہے ان کو بھی  گھڑ سواری کا

جو دور سے کھڑے غمزے شتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اپنی بصیرت پہ ناز ہے ان کو

جو رات کو بھی اجالے سحر کے دیکھتے ہیں

ادیب و شاعر فن کار بوتے ہیں جو شجر

یہ لوگ پھل کہاں اپنے شجر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے مرنے کے بعد ان کی قدر ہوتی ہے

سو چند دن کیلئے ہم بھی مر کے دیکھتے ہیں