بھارت کی گنجی ہیروئنیں

بھارت کی گنجی ہیروئنیں

بالی ووڈ میں کئی اداکارائیں ایسی ہیں جنہوں نے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی بالوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔


خواتین کو اپنے بالوں سے بہت لگاؤہوتا ہے، خواتین اپنے پاس موجود قیمتی جیولری اور بہترین لباس کی تو قربانی دے سکتی ہیں لیکن ان کیلئے بالوں کی قربانی دینا بہت کٹھن ہوتا ہے تاہم بالی ووڈ میں کئی ایسی اداکارائیں ہیں جنہوں نے اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے بالوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔


پریانکا چوپڑا:

پریانکا چوپڑا نے 2014 میں فلم ’’میری کوم‘‘ کیلئے اپنا سر منڈوایا تھا پریانکا نے اپنے عمل کی وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا انہوں نے کردار کی ڈیمانڈ کے مطابق اپنے بال کٹوائے ہیں کیونکہ وہ اپنے کردار سے مکمل انصاف کرنا چاہتی تھیں۔


شبانہ اعظمی:

شبانہ اعظمی نے 2005 میں ریلیز ہوئی فلم ’’واٹر‘‘ کیلئے اپنے بالوں کی قربانی دی تھی۔


نندیتا داس:

نندیتا داس ہر کردار کو اتنی مہارت سے اداکرتی ہیں کہ دیکھنے والے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں 2005 میں نندیتا داس نے فلم ’’واٹر‘‘ کیلئے اپنے بال کٹوائے تھے۔


لیزا رائے:

لیزا رائے نے بھی 2005 میں فلم ’’واٹر‘‘ کیلئے اپنے بالوں کی قبانی دی تھی بعد ازاں 2009 میں کینسر تشخیص ہونے کے بعد بھی انہیں بالوں سے محروم ہونا پڑا تھا۔


انوشکا شرما:

انوشکا شرما نے گزشتہ برس ریلیز ہوئی فلم ’’اے دل ہے مشکل‘‘ میں کینسر کی مریضہ کا کردار نبھانے کیلئے بالوں سے محروم خاتون کا کردار نبھایا تھا تاہم انہوں نےاس کردار کیلئے حقیقت میں اپنا سرنہیں منڈوایا تھا بلکہ بالوں سے محروم وگ کا استعمال کیا تھا۔


شلپا شیٹی: 

شلپا شیٹھی بھی 2010 میں  بھارت چائنا کی مشترکہ پروڈکشن میں بننے والی فلم ’’دی ڈیزائرالسلام سفر آف اے وومن‘‘ میں ایک بدھ مت راہبہ کا کردار اداکیا تھا کردار کی ڈیمانڈ کے مطابق انہوں نے اپنے بالوں کی قربانی دی تھی۔



تنوی اعظمی:

’’باجی راؤ مستانی‘‘ میں اداکارہ تنوی اعظمی نے بیوہ خاتون رادھا بائی کا کردار نبھانے کیلئے اپنا سرمنڈوایا تھا۔